حیات بشیر

by Other Authors

Page 206 of 568

حیات بشیر — Page 206

206 آنحضرت ﷺ کے ذکر سے آپ ایسا حظ اٹھاتے تھے کہ پاس بیٹھا ہوا انسان بھی فوراً محسوس کر لیتا تھا کہ آپ کو دنیا میں اگر کوئی ہستی سب سے زیادہ محبوب نظر آتی ہے تو وہ آنحضرت ہی ہیں۔اسی محبت کے اظہار کے لئے آپ نے اپنی محبوب کتاب ”چالیس جواہر پارے“ کے عرض حال“ میں لکھا کہ: ایک دفعہ ایک غریب مسلمان آنحضرت علی اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے ماتھے پر عبادت و ریاضت کا تو کوئی خاص نشان نہیں تھا مگر اسکے دل میں محبت رسول کی چنگاری تھی جس نے اس کے سینہ میں ایک مقدس چراغ روشن کر رکھا تھا۔اس نے قرب رسالت کی دائمی تڑپ کے ماتحت آنحضرت ﷺ سے ڈرتے ڈرتے ہو پوچھا۔یارسول اللہ ! قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا تم قیامت کا پوچھتے کیا اس کے لئے تم نے کوئی تیاری بھی کی ہے؟ اس نے دھڑکتے ہوئے دل اور کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے عرض کیا۔”میرے آقا! نماز روزے کی تو کوئی خاص تیاری نہیں لیکن میرے دل میں خدا اور اس کے رسول کی سچی محبت ہے۔“ آر نے اُسے شفقت کی نظر سے دیکھا اور فرمایا المرء مع من احب یعنی پھر تسلی رکھو کہ خدائے ودود کسی محبت کرنے والے شخص کو اس کی محبوب ہستی سے جدا نہیں کرے گا۔یہ حدیث میں نے بچپن کے زمانے میں پڑھی تھی لیکن آج تک جو میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہوں میرے آقا کے یہ مبارک الفاظ قطب ستارے کی طرح میری آنکھوں کے سامنے رہے ہیں اور میں نے ہمیشہ یوں محسوس کیا ہے کہ گویا میں نے ہی رسول خدا سے یہ سوال کیا تھا اور آپ نے مجھے ہی یہ جواب عطا فرمایا تھا اور اس کے بعد میں اس نکتہ کو کبھی نہیں بھولا کہ نماز اور روزہ اور حج اور زکوۃ سب برحق ہے مگر دل کی روشنی اور رُوحانیت کی چمک خدا اور اس کے رسول کی سچی محبت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔اگر انسان کو یہ نعمت حاصل ہو جائے تو ظاہری عمل زندگی کی رُوح سے معمور ہو کر اس کے پیچھے پیچھے بھاگا آتا ہے لیکن اگر انسان کو یہ نعمت حاصل نہ ہو تو پھر خشک عمل ایک مردہ لاش سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا جو ظاہر پرست لوگ اپنے سینوں سے لگائے پھرتے ہیں۔“ اس اقتباس سے آپ کے دل کی کیفیت کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں