حیات بشیر

by Other Authors

Page 200 of 568

حیات بشیر — Page 200

200 رہے ہیں۔ملاقاتیوں کی باتیں بھی بڑے غور سے سن کر انہیں مناسب جوابات سے نواز رہے ہیں۔خود مسٹر حافظ نے بعض باتیں کیں جن کے حضور نے تسلی بخش جوابات دیئے۔انہوں نے حضور کی اس ذہانت اور چوکسی کو دیکھ کر مجھے کہا کہ میں نے دنیا میں ایسا انسان کوئی نہیں دیکھا جو ایک وقت میں کئی کام کر رہا ہو اور ہر کام کی طرف اس کی پوری توجہ ہو۔یہ کہہ کر انہوں نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ شخص جو حضرت کے دائیں طرف بیٹھا ہے۔حضور کا پرائیویٹ سیکرٹری ہونا چاہیے۔پھر کہا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ کون ہے؟ جب میں نے انہیں بتایا کہ یہ حضور کے چھوٹے بھائی ہیں تو انہوں نے کہا کہ تبھی ان کے وجود میں ایک خاص قسم کی جاذبیت پائی جاتی ہے گویا آپ کی وجاہت اس قسم کی تھی کہ کوئی شخص بھی آپ کو دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔آپ کا لباس آپ کا لباس نہایت سادہ ہوتا تھا۔سفید قمیض، سفید شلوار، لمباکھلا کوٹ اور پگڑی پہنتے تھے۔تنگ لباس کو برداشت نہ کرتے تھے، بچپن اور جوانی کے زمانہ میں پگڑی کے ساتھ ساتھ ٹوپی بھی استعمال فرما لیتے تھے۔مگر ادھیڑ عمر میں پہنچ کر ٹوپی کا استعمال ترک کر دیا تھا۔البتہ کبھی کبھی غیر رسمی مواقع پر ٹوپی پہن بھی لیتے تھے۔اوائل عمر سے لیکر جوانی تک دیسی جوتا پہنا کرتے تھے لیکن بعد اذاں گر گابی طرز کا کھلا بغیر تسموں والا بوٹ۔آپ کی طرز رہائش کے متعلق حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ: یہی سادگی رہائش میں پسند فرماتے تھے اور نمائش کی چیزوں سے گھبراتے تھے۔رہائش میں مشقت پسند فرماتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ جب شروع شروع میں Air Condition کا رواج بڑھا اور میں نے ایک خریدا تو میری طبیعت پر یہ بات گراں گذری کہ میں اپنے لئے کوئی ایسا آرام ڈھونڈوں جو ابا جان کے استعمال میں نہ ہو۔چنانچہ میں نے اس کیفیت کے مدنظر اور ربوہ کی شدید گرمی کا احساس کرتے ہوئے ایک Air Condition تحفہ بھیجا اور آدمی بھیج کر آپ کے کمرے میں لگوا دیا۔اُسے استعمال فرماتے رہے لیکن ایک مرتبہ خراب ہوگیا تو خفگی سے فرمایا کہ مظفر نے خواہ مخواہ مجھے اس کی عادت ڈال دی ہے اور اس کے بند یا خراب ہونے سے اب مجھے تکلیف ہوتی ہے ورنہ میں اپنے لئے کسی سہولت کو مرغوب نہیں