حیات بشیر — Page 193
193 وجہ سے چارلس جان ایلی کوٹ نے کہا۔اسلام میں ایک نئی حرکت کے آثار نمایاں ہیں۔مجھے ان لوگوں نے جو صاحب تجربہ ہیں۔بتایا ہے کہ ہندوستان کی برطانوی مملکت میں ایک نئی طرز کا اسلام ہمارے سامنے آرہا ہے۔اور اس جزیرے میں بھی کہیں کہیں اس کے آثار نظر آ رہے ہیں۔یہ ان بدعات کا سخت مخالف ہے۔جن کی بنا پر محمد(ﷺ) کا مذہب ہماری نگاہ میں قابل نفریں قرار پاتا ہے اس نئے اسلام کی محمد (ع) کو پھر وہی پہلی سی عظمت حاصل ہوتی جارہی ہے۔یہ نئے تغیرات بآسانی شناخت کئے جا سکتے ہیں۔پھر یہ نیا اسلام اپنی نوعیت میں مدافعانہ ہی نہیں بلکہ جارحانہ حیثیت کا بھی حامل ہے۔افسوس ہے تو اس بات کا کہ ہم میں سے بھی بعض ذہن اس کی طرف مائل ہورہے ہیں۔“ ب: پھر اسی سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پنڈت لیکھرام کی ہلاکت کی خبر دی گئی جو آنحضرت ﷺ اور اسلام کی صداقت ثابت کرنے کا ایک عظیم الشان ذریعہ بن گئی اور کثرت سے مسلمانوں کی توجہ آپ کی طرف ہو گئی۔لکھی اور اسی سال آپ نے عربی زبان میں کرامات الصادقین جیسی بے نظیر کتاب بالمقابل قلم اُٹھانے والے علماء کے لئے ایک ہزار روپیہ انعام کا وعدہ کیا جس سے آپ کے علم وفضل کی دھاک بیٹھ گئی۔و پھر تھوڑے عرصہ کے اندر اندر ہی آپ کی سچائی پر گواہی دینے کے لئے ۱۳ ماہ رمضان ۱۳۱۱ھ (مطابق ۲۰ مارچ ۱۸۹۸ء کو چاند گرہن اور ۲۸ رمضان ۱۳۱۱ھ (مطابق ۶ اپریل ۱۸۹۴ء) کو سورج گرہن ہوا جس سے مخالف علماء سخت پریشان اور کبیدہ خاطر ہوئے۔غرض آپ کی پیدائش کے بعد سلسلہ عالیہ احمدیہ کی سچائی کے لئے جو پے در پے نشانات ظاہر ہوئے اُن کی وجہ سے اسلام کا درد رکھنے والے لوگوں کی نظریں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف اُٹھنا شروع ہو گئیں اور لوگ کثرت کے ساتھ سلسلہ میں داخل ہونا شروع ہو گئے۔آپ کا بچپن آپ کے بچپن کے بہت سے واقعات محترم مولوی محمد یعقوب صاحب کے مقالہ میں ناظرین پڑھ آئے ہیں۔یہاں صرف حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم مدظلہا العالی کا ایک مختصر سا نوٹ