حیات بشیر — Page 143
143 اجتماعی دعا محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب ربوہ میں اڑھائی ماہ قیام فرمانے کے بعد ۲۶ فروری کو واپس جانے لگے تو روانگی سے قبل مسجد مبارک میں نماز ظہر کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب امیر مقامی نے آپکے بخیریت پہنچنے اور آپکی بیش از پیش دینی و دنیوی ترقیات کیلئے اجتماعی دعا کرائی۔۴۰۲ حضرت ام المؤمنین کی آپ سے محبت مارچ ۵۸ء میں ”پیغام صلح نے آپ کے مضمون ”نیاسال اور ہماری ذمہ داریاں“ پر اعتراض کرتے ہوئے اپنے مضمون کا عنوان یہ رکھا کہ ”قادیانی منجھلے میاں کا مجوزہ لائحہ عمل“ اور بعض جگہ استہزاء کے رنگ میں بھی منجھلے میاں“ کے الفاظ استعمال کئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ " یہ وہ الفاظ ہیں جن میں حضرت ام المؤمنین نور اللہ مرقدہا مجھے اکثر پیار کے رنگ میں پکارا کرتی تھیں۔میں نہیں جانتا کہ یہ اسلم پرویز کون ہیں۔لیکن اگر وہ احمدی کہلاتے ہیں تو انہیں حضرت ام المؤمنین مغفوره و مرحومہ کے محبت والے کلام کو 66 استہزاء کے رنگ میں استعمال کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے تھی۔“ سے ربوہ کی تاریخی مسجد کا سنگ بنیاد ۲۱ مارچ کو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے فضل عمر ہسپتال کی نوتعمیر عمارت کا افتتاح فرمایا۔اس موقعہ پر ہسپتال کے احاطہ میں تعمیر ہونے والی تاریخی مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے مسجد مبارک قادیان کی ایک اینٹ حضور کی خدمت میں پیش کی گئی جس پر حضور نے دعا فرمائی۔حضور کے تشریف لے جانے کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے دست مبارک سے مسجد کی بنیاد میں مسجد مبارک قادیان کی وہ اینٹ نصب فرمائی جس پر حضور نے دُعا فرمائی تھی۔۴۰۴ کمزوریوں کی فہرست اپریل ۵ کے رمضان المبارک میں آپ نے پھر انسانی خطاؤں اور کمزوریوں کی ایک فہرست شائع فرماتے ہوئے دوستوں کو تاکید کی کہ وہ اس مہینہ میں کم از کم ایک کمزوری کو ترک کرنے کا خدا تعالیٰ سے سچا عہد کریں۔۴۰۵ بے حساب بخشش کی دُعا آخر رمضان المبارک میں آپ نے اپنے متعلق دوستوں سے اس دعا کی التجا کی کہ