حیات بشیر — Page 123
123 پر شرح صدر سے دے سکے وہ نوٹ کرنے کے بغیر خاموشی کے ساتھ اس تھیلی کے اندر ڈال دے جو اس غرض کے لئے صدقہ کی رقوم وصول کرنے والے عزیز کے سپرد کی گئی تھی تا کہ ایسے نازک موقعہ جو کچھ دیا جائے خالص اور پاک نیت کے ساتھ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے دیا جائے دوسری شرط یہ لگائی گئی کہ اس صدقہ کے لئے خاندان کا ہر فرد کچھ نہ کچھ رقم ضرور دے خواہ ایک پیسہ یا دھیلہ ہی ہو حتی کہ دودھ پیتا بچہ بھی اس صدقہ کی شمولیت سے باہر نہ رہے چنانچہ ان شرائط کے ماتحت صدقہ کی رقم جمع کی گئی اور مستحقین میں تقسیم کی گئی۔119 ایک عارفانہ نکتہ ۱۳/ نومبر ۵۲ کو آپ کی سب سے چھوٹی بیٹی عزیزہ امتہ اللطیف بیگم سلمہا کی تقریب ء رخصتانہ عمل میں آئی۔اس موقعہ پر آپ نے دوستوں سے دعا کی درخواست کرتے ہوئے یہ عارفانہ نکتہ بیان فرمایا کہ : ”شادی ایک اندھیرے کا قدم ہوتی ہے اور اس کے انجام کا علم خدائے علیم وخبیر کے سوا کسی کو نہیں ہوتا۔والدین نیک نیت اور نیک امیدوں کے ساتھ ایک قدم اُٹھاتے ہیں لیکن اس قدم کو ہر قسم کے خطرات سے بچا کر دینی اور دنیوی برکتوں سے نوازنا اور کامیابی کے ساتھ انجام تک پہنچانا صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے۔عـلـيـه توكلت واليه انیب ۳۲۰ بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی سفارشات پاکستان کے دستور اساسی کے سلسلہ میں بنیادی اصولوں کی کمیٹی نے جو سفارشات اپنی رپورٹ میں کی تھیں ان پر غور کرنے کے لئے جنوری ۵۳ء میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک سب کمیٹی تجویز فرمائی جس میں اور دوستوں کے علاوہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی شریک تھے۔اس کمیٹی کے متعدد اجلاس حضور کی صدارت میں منعقد ہوئے اور رپورٹ پر غور کیا گیا۔بالآخر شائع کردہ سفارشات کے بارہ میں اس کمیٹی نے جو رائے دی اسے الفضل کے علاوہ پمفلٹ کی صورت میں بھی شائع کر دیا گیا۔۳۲۱ خالصہ ثواب اور خدمتِ دین کیلئے کتابوں کی تصنیف اسی ماہ میں آپ نے اپنے رسالہ ”چالیس جواہر پارے“ کے دوسرے ایڈیشن کی اشاعت کا اعلان کرتے ہوئے جہاں دوستوں کو توجہ دلائی کہ وہ اس کا خود بھی مطالعہ کریں اور اپنے عزیزوں