حیات بشیر — Page 94
94 زلزلہ ہے جو ہندوستان کے شمال مشرق میں آنا تھا۔اس کے بعد میں نے اس کا ذکر حضرت مولوی شیر علی صاحب اور بعض دوسرے دوستوں کے ساتھ کیا اور سب نے حیرت کے ساتھ اس سے اتفاق کیا کہ ہاں یہ وہی زلزلہ ہے اور پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اب مناسب ہے کہ بشیر احمد ہی اس زلزلہ کے متعلق ایک مضمون لکھ کر شائع کرے۔“ ۲۰۵ چنانچہ ایک اور تازہ نشان کے زیر عنوان آپ نے اس پیشگوئی کے متعلق ایک ٹریکٹ لکھا جو بکثرت تقسیم کیا گیا۔امتحان پاس کرنے کے گر اسی طرح آپ نے ان ایام ایک رسالہ امتحان پاس کرنے کے گر بھی شائع کیا کیونکہ آپ نے یہ محسوس کیا کہ طالبعلم محنت کر کے امتحانات کے لئے مقررہ کتابیں تو تیار کر لیتے ہیں لیکن امتحان دینے کے طریق اور فن کو نہیں جانتے جس کی وجہ سے بہت سے طالبعلم باوجود تیاری کے امتحانوں میں فیل ہو جاتے ہیں یا کم از کم اتنے نمبر حاصل نہیں کر سکتے جو انہیں تیاری کے لحاظ سے حاصل کرنے چاہئیں۔“ ر مشتمل ہے۔یہ رسالہ طلباً کیلئے نہایت اعلیٰ ہدایات پر عید کے موقعہ پر دعوت طعام ۱۷ جنوری ۳۴ء کو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے ماتحت عیدالفطر کی یب پر تمام جماعت قادیان کو دعوت طعام دی گئی۔عورتوں اور بچوں کے لئے گھروں میں کھانا پہنچایا گیا اور تمام صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان لوگوں نے جن کے نام قرعہ اندازی سے نکلے حضور کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں کھانا کھایا۔اس دعوت کا جنرل انتظام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے سپرد تھا۔۲۰۷ جائنٹ ناظر بیت المال جون ۳۴ء میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے مختلف جائنٹ ناظران بیت المال کا تقرر فرمایا جن کا کام یہ تھا کہ وہ اپنے اپنے حلقہ کی انجمنوں اور افراد کی مالی پوزیشن کی صحیح تشخیص کرائیں اور اسکی رو سے ہر ایک انجمن کے چندے کا بجٹ تیار کیا جائے اور اس فیصلہ کے ماتحت