حیات بشیر

by Other Authors

Page 93 of 568

حیات بشیر — Page 93

93 حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب فاضل ، محترم شیخ عبدالقادر صاحب فاضل مربی سلسلہ احمدیہ لاہور اور مولوی عبدالرشید صاحب زیروی نے نمایاں حصہ لیا۔۲۰۳ ۱۹۳۴ء کے واقعات ہندوستان کے شمال مشرق کا تباہ کن زلزلہ ۱۵ جنوری ۳۴ ء کو ہندوستان کے شمال مشرق میں ایک تباہ کن زلزلہ آیا جس نے صوبہ بہار اور ریاست نیپال اور بنگال کے بعض حصوں میں ایک قیامت برپا کر دی۔زلزلہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۲۰ اپریل ء کو یہ رویا دیکھا تھا کہ: بشیر احمد کھڑا ہے وہ ہاتھ سے شمال مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ زلزلہ اس طرف چلا گیا۔‘ ۲۰۴ اس رویا میں جہاں اس تباہ کن زلزلہ کی خبر دی گئی تھی وہاں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ زلزلہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی زندگی میں آئے گا اور ایسا ہوگا کہ ابتداء آپ ہی اس پیشگوئی کی طرف توجہ دلائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔آپ کی زندگی میں ہی یہ زلزلہ آیا اور پھر جماعت میں سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کے پورا ہونے کی طرف آپ کا ذہن ہی منتقل ہوا۔آپ خود اس کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وو جب ۱۵ جنوری ۳۴ ء کے زلزلہ کی خبریں اخبارات میں شائع ہوئیں تو اس کے چند روز بعد ایک رات میں نے یوں محسوس کیا کہ مجھے بے خوابی کا عارضہ لاحق ہے اور نیند نہیں آتی۔حالانکہ عموماً مجھے بے خوابی کی شکایت نہیں ہوا کرتی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کا مجموعہ ”البشری اٹھا کر اُسے پڑھنا شروع کیا اور میں صبح کے ساڑھے چار بجے تک اُسے پڑھتا رہا۔آخر میں میری نظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس رویاء پر پڑی کہ بشیر احمد شمال مشرق کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ زلزلہ اس طرف چلا گیا۔مگر اسوقت بھی مجھے یہ خیال نہیں آیا کہ اس میں ۱۵؍جنوری کے زلزلہ کی طرف اشارہ ہے۔اس کے بعد تھوڑی دیر کے لئے میری آنکھ لگ گئی اور جب میں صبح اُٹھا تو دن کے دوران میں اچانک ایک بجلی کی چمک کی طرح میرے دل میں یہ بات آئی کہ یہ خواب اسی زلزلہ پر چسپاں ہوتی ہے اور پھر جب میں نے اس کے حالات پر غور کیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہی وہ