حیات بشیر

by Other Authors

Page 78 of 568

حیات بشیر — Page 78

78 ۱۹۲۳ء کے واقعات فتنه ارتداد مارچ ۲۳ ء میں یوپی میں ارتداد کا فتنہ شروع ہو گیا اور آریوں نے ہزاروں ملکانہ راجپوتوں کو ورغلا کر شدھ کرنا شروع کر دیا۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کے انسداد کے لئے فوری طور پر ایک نیا صیغہ انسداد فتنہ ارتداد ملکانہ کے نام سے قائم فرما دیا اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو اس کا افسر مقرر فرمایا۔چونکہ ارتداد کی رو بڑے زور سے بڑھ رہی تھی اس لئے حالات کا جائزہ لینے کے لئے ۱/۸ اپریل ۲۳ ء کو آپ خود آگرہ تشریف لے گئے آپ کے ساتھ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب بھی تھے۔چنانچہ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال جو ان دنوں آگرہ میں متعین تھے اور جنہیں حضور نے امیر وفد المجاہدین“ بنایا ہوا تھا۔انہوں نے اپنی رپورٹ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا: حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے جو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے دوسرے فرزند ہیں اور حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ ریاست ۹/اپریل کو آگرہ تشریف لائے ہیں تا کہ بنفس نفیس فتنہ ارتداد کے حالات اور واقعات کا مطالعہ فرمائیں۔ان بزرگوں کی تشریف آوری انشاء اللہ تعالیٰ مبلغین جماعت احمدیہ قادیان کے جوش ایمانی اور خدمت دینی میں خاص ولولہ پیدا کرے گی۔اللہ ۲۳ / اپریل کو آپ علاقہ ارتداد سے واپس تشریف لے آئے۔۵۱۴۲ کفر و اسلام کی جنگ الدلم آپ نے اپنی مشہور تصنیف ”سلسلہ احمدیہ میں اپنے اس دورہ کے تاثرات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے: خاکسار مؤلف رسالہ ہذا کو ان ایام میں خود اس علاقہ میں جا کر حالات دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا اور میرے دل پر جو اثر تھا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ایک عظیم الشان جنگ تھی جس کا محاذ قریباً ایک سو میل کی وسعت پر پھیلا ہوا تھا اور اس وسیع محاذ پر اسلام اور کفر کی فوجیں ایک دوسرے کے مقابل پر تخت یا تختہ کے عزم کے ساتھ ڈیرہ جمائے پڑی تھیں۔دوران جنگ میں احمدیت کے جنگجو دستہ کے لئے بعض