حیات بشیر

by Other Authors

Page 7 of 568

حیات بشیر — Page 7

7 اور سے سے ممکن نہ ہوتا۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ کی بیماری اور تکلیف کا احساس اور اس کا درد اور کرب ایک طرف جماعت کے غم اور پریشانی میں ہر کس وناکس کے درد کا احساس اور ہر کسی کی دل جوئی اور غم خواری اور حوصلہ افزائی دوسری طرف سلسلے کی بہبودی اور ترقی اور اس کے مختلف شعبوں کی کار گزاری کے متعلق مشوروں اور نصائح کی ذمہ داری تیسری طرف نازک خیالات اور نازک احساسات کی پاسداری چوتھی طرف غرض۔دل دماغ فکر روح سب پر کار بار حاوی تھا کار خویش کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی سچ تو یہ ہے کہ کار یار ہی کار خویش بن چکا تھا۔سروجان اسی کے لئے وقف ہو چکے تھے۔اسی میں محو تھے دل بھر آتا تھا۔آنسو بہہ پڑتے تھے۔جگر خون ہو کر رہ جاتا تھا۔ولانـقــول الاما یرضی به ربنا والی کیفیت تھی اپنے مقدس باپ علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہر لحظہ پیش نظر تھا۔اندرین راه دردِ سر بسیار نیست جاں بخواهد دادنش بسیار نیست بشیر احمد نے اسے اپنے عمل اور کردار سے ایک حقیقت ثابت کر کے دکھا دیا۔ہر لحظہ جان دی اور مسکرا دیئے اور جان دیتے چلے گئے دیتے چلے گئے دیتے چلے گئے، یہاں تک کہ یــــایتــــا النفس المُطْمَئِنَّةُ الرجعى الى ربك راضية مرضية فادخلي في عبادی و ادخلی جنتی کا مژدہ سنتے ہی لبیک اللهم لبیک لا شریک لک لبیک کے ساتھ آخری بار اسی کا عطیہ اس کے سپرد کر کے تمام ذمہ داریوں سے سرخروئی کے ساتھ سبکدوش ہو گئے۔جعل الله الجنة العليا مثواه۔خاکسار