حیات بشیر — Page 6
6 حضرت صاحبزادہ صاحب کا مہمان ہوتا۔یہ صورت سالوں رہی۔لیکن ایک لحظہ بھر بھی کبھی خاکسار نے اپنے تئیں آپ کے ہاں مہمان شمار نہیں کیا، بلکہ ہر لحاظ سے آپ کے گھر کو بے تکلفی میں اپنا ہی گھر محسوس کیا اور آرام میں اسے اپنے گھر سے بہت بڑھ کر پایا اور یہی کیفیت ان تمام احباب کی بھی ہوا کرتی تھی جو قادیان کے سفر اور قیام کے دوران میں خاکسار کے رفیق ہوا کرتے تھے۔مرور زمانہ کے ساتھ حضرت صاحبزادہ صاحب کے علم و حلم، آپ کے اوصاف حمیدہ اور صفات ستودہ میں جلد جلد اضافہ ہوتا گیا اور آپ کے علم اور سرگرمیوں کے میدان وسیع سے وسیع تر ہوتے گئے بہت جلد خاندان مسیح موعود اور سلسلے اور جماعت میں آپ کو ایک نمایاں اور ممتاز حیثیت حاصل ہو گئی۔جس کے نتیجے میں آپ کے تعلقات بھی بہت وسیع ہوتے گئے اور تمام جماعت ہی نہیں بلکہ بہت سا طبقہ غیر از جماعت احباب کا بھی آپ کے اخلاق حسنہ کا مورد و معترف اور گرویدہ ہوتا گیا۔ان تفاصیل کا بیان آپ کے سوانح نگار کے ذمے ہے، خاکسار کو یقین ہے کہ محترم جناب شیخ عبد القادر صاحب جنہوں نے اس مقدس فرض کو اپنے ذمے لینے کا اظہار کیا ہے۔بہت جلد اس سے کماحقہ عہدہ برآ ہو کر جماعت اور سلسلہ کو اپنا احسانمند بنائیں گے۔لمصل خاکسار اسی پر کفایت کرتا ہے کہ حضرت صاحبزدہ صاحب کی ایک نہایت اہم خدمت کی طرف مختصر سا اشارہ کر دے۔یوں تو صاحبزادہ صاحب کی تمام زندگی ہی بنی نوع انسان اسلام اور سلسلے کی خدمت کیلئے وقف رہی اور گونا گوں رنگ میں آپ کو اس خدمت کا مواقع بفضل اللہ میسر آتے رہے۔جس سے آپ نے پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہایت تندہی اور جانفشانی سے اسلام اور سلسلہ احمدیہ کے استحکام کے لئے کار ہائے نمایاں سر انجام دیئے جن کا تعلیمی، تربیتی اور اخلاقی فیض ہمیشہ جاری رہے گا اور یہی آپ کی حقیقی یادگار ہوگا۔لیکن ان سب سے ممتاز اور اہم وہ خدمت اور وہ قربانی ہے جو آپ سے حضرت امیر المومنین اصلح موعود ایده الله نبصره العزيز و متعنا الله بطول حیاتہ کی بیماری کے عرصہ کے ہر لحظے نے طلب کی اور جسے آپ نے حددرجہ بے دریغی اور کمال بے نفسی سے پورا کیا اور سر انجام دیا۔یہ عرصہ تمام جماعت کیلئے اور درجہ بدرجہ خدام مخلصین کے لئے لیکن سب سے کہیں بڑھ کر اور کئی گنا زیادہ حضرت صاحبزدہ صاحب کے لئے صبر آزما اور درد ناک طالب بے نفسی اور کیف راضی برضا رہا ہے۔اس تمام عرصے میں جس طور پر آپ نے اپنا اپنی روح اپنے قومی اور اپنی استعدادیں اپنے وسائل اور اپنا وقت اپنی امنگیں اور اپنے ارا دے اپنی صحت اور اپنی زندگی مرضی مولیٰ کے سپرد اور حوالے رکھیں۔وہ آپ ہی کا حصہ تھا اور کسی اور