حیات بشیر

by Other Authors

Page 63 of 568

حیات بشیر — Page 63

63 حضرت صا حبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو فر مایا: ”میاں کل جمعہ ہے مگر تم آجانا۔اگر زندگی باقی ہے تو تمہیں ہفتہ کے روز قرآن ختم کرا دینے کا اردہ ہے ورنہ میرے بعد اپنے بھائی صاحب سے ختم کر لینا۔“ دے لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور ۸/ نومبر ۱۹۱۳ ء کو آپ نے سارا قرآن کریم حضرت خلیفہ اول سے پڑھ لیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔حضرت خلیفہ اسیج اول نے آپ کے لیے بہت دعائیں کیں۔اور حضرت ام المؤمنین نے اس خوشی میں مٹھائی بانٹی۔اے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی حضرت خلیفہ اول سے قرآن مجید پڑھنے کا اپنے ایک مضمون میں ذکر فر مایا ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں: ”خاکسار راقم الحروف نے بھی جبکہ میں بی۔اے میں پڑھتا تھا۔تعلیم کا سلسلہ درمیان میں چھوڑ کر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے قرآن شریف پڑھا اور پورا قرآن شریف ختم کر کے اپنی تعلیم کی طرف لوٹ آیا۔“ ہے مجلس معتمدین کی صدارت آپ چونکہ اللہ سے صدر انجمن احمدیہ کے ممبر تھے اور نہایت زیرک اور معاملہ فہم تھے۔اس لئے ۱۴ء کے ابتدائی مہینوں میں بعض دفعہ آپ مجلس معتمدین کے صدر بھی مقرر ہوتے رہے ہیں۔چنانچہ رجسٹر کاروائی صدر انجمن احمد یہ نمبر ے سے ظاہر ہے کہ ۲۶ / جنوری ۱۳ ء اور ۱۵ فروری ۶۱۳ کے اجلاس حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی صدارت میں ہی منعقد ہوئے۔بی۔اے کی تعمیل حضرت خلیفہ اول سے قرآن کریم پڑھ لینے کے بعد آپ نے پھر بی۔اے کی تعلیم کو مکمل کرنا چاہا اور اپنی انگریزی تعلیم کی تکمیل کے لئے لاہور جانے کا فیصلہ کیا چونکہ آپ ان دنوں الاسلام ہائی سکول میں آنریری مدرس تھے۔اس لئے سکول کی طرف سے آپ کو الوداعی پارٹی دی گئی اور ۱۳/ نومبر ۱۳ ء کو آپ لاہور تشریف لے گئے۔آپ کی مشایعت کے لئے آپ کے بھائی اور بعض دیگر مخلصین باہر تک گئے۔۷۸ مطالعہ کرنا ۱۶ جنوری ۱ ء کو آپ پھر قادیان تشریف لائے کیونکہ آپ بی۔اے کے عربی کورس کا چاہتے تھے وہ اس کے بعد آپ پھر لاہور تشریف لے گئے اور گورنمنٹ کالج کے متعلقہ پروفیسر کی اجازت سے پرائیویٹ طور پر کلاس میں بیٹھنے لگ گئے۔۵۸۰