حیات بشیر

by Other Authors

Page 456 of 568

حیات بشیر — Page 456

456 ”وہاں پھر پہلے کی طرح اپنے متعلق منذر خواب دیکھی اور اسی وجہ سے مقررہ پروگرام سے پہلے لاہور واپس تشریف لے گئے۔“ پھر فرماتے ہیں۔”لاہور میں واپسی پر بھی منذر خوابوں کا سلسلہ جاری رہا۔چنانچہ ایک مرتبہ ۲۴ اگست کے قریب جب میں لاہور گیا تو فرمانے لگے کہ اب تو چل چلاؤ ہی ہے۔خوابوں کی تفصیل نہیں بتلاتے تھے۔گھوڑا گلی میں میری چھوٹی ہمشیرہ عزیزہ امتہ اللطیف بیگم نے جب اس بارے میں کچھ دریافت کرنے کی کوشش کی تو فرمانے لگے: تم بچے ہو میں تفصیل نہیں بتلاتا تم لوگ گھبرا جاؤ گے۔“ ایک چیز جس کا بالوضاحت اپنے ایک خط میں ایک بزرگ کے نام ذکر فرمایا وہ یہ تھی کہ فرمایا میری زبان پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر جاری ہوا ؎ بھر گیا باغ اب تو پھولوں سے آؤ بلبل چلیں کہ وقت آیا ان خوابوں کی وجہ سے بہر حال آپ کی طبیعت پر یہ گمان بہت غالب تھا بلکہ یقین کی حد تک پہنچ چکا تھا کہ آپ کی وفات کا وقت قریب ہے۔خود ماہ جون کے آخر میں ربوہ سے روانگی کے وقت اپنی تجہیز و تکفین کے لئے علیحدہ رقم گھر دے دی پھر لاہور سے رید رقم یہ کہہ کر والدہ کو ارسال کی کہ میری وفات پر دوست آئیں گے گھر کے عام خرچ سے زیادہ اخراجات ان دنوں ہوں گے۔اس لئے بھجوا رہا ہوں۔ایک روز ایک خط بھی اپنے خادم بشیر احمد سے لکھوا کر بھیجا جو ایک قسم کا الوداعی خط تھا۔اسی طرح ایک بیرون از پاکستان کے خط کے جواب میں لکھوایا کہ آپ نے لکھا ہے کہ آپ لوگ اکتوبر میں پاکستان آئیں گے لیکن اکتوبر میں تو میں یہاں نہیں ہوں گا۔کچھ اس قسم کے الفاظ تھے۔“ کے اب ہم پھر آپ کی بیماری کے حالات محترم جناب ڈاکٹر محمد یعقوب خان صاحب کے بیان فرمودہ لکھتے ہیں محترم ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں۔پھر ڈاکٹری مشورہ شروع ہوا علاج کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔بعض نئی دوائیں تجویز ہوئیں۔مشورہ میں ڈاکٹر محمد اختر ، ڈاکٹر محمد رشید چودھری، کرنل عطاء اللہ صاحب شامل تھے۔اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً مشورہ ہوتا رہا۔ان دنوں حضرت میاں صاحب کو بے