حیات بشیر

by Other Authors

Page 451 of 568

حیات بشیر — Page 451

451 مطابق انتظام کیا جاسکے۔چنانچہ جون کے آخر میں آپ لاہور تشریف لے گئے جہاں ہسپتال میں ایک کمرہ کا انتظام بھی کر لیا تھا۔لاہور میں بعض ٹیسٹ لئے گئے اور ڈاکٹری مشورہ سے طے پایا کہ فی الحال آپریشن کی کوئی فوری ضرورت نہیں اور اس تکلیف میں علاج سے ا سے افاقہ بھی ہوا لیکن طبیعت پوری طرح نہ سنبھلی “۲ لاہور جانے سے قبل کے حالات پر چونکہ محترم مختار احمد صاحب ہاشمی کے ایک مضمون کچھ روشنی پڑتی ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس مضمون کا متعلقہ اقتباس بھی درج کر دیا جائے محترم ہاشمی صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”غالباً تین ساڑھے تین ماہ کی بات ہوگی کہ میں بعض دفتری امسلہ لے کر حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا ہاشمی صاحب! آپ کو علم ہے کہ مجھے ایک عرصہ سے منذر خواہیں آ رہی ہیں۔آج صبح جب میں بیدار ہوا تو میری زبان پر یہ مصرعہ جاری تھا۔آؤ بلبل چلیں کہ وقت آیا۔میں آخرمئی ۱۳ء سے رخصت پر ربوہ سے باہر گیا ہوا تھا۔اس دوران میں مجھے دفتر کی طرف سے مکرم قریشی عطاء اللہ صاحب کے ذریعہ اطلاع ملی کہ حضرت میاں صاحب بغرض علاج لاہور جانے والے ہیں اور یہ کہ میں جلد واپس آجاؤں۔چنانچہ میں ۲۶-۶-۶۳ کو صبح آٹھ بجے کوٹھی ”البشری حاضر ہو گیا۔اس وقت حضرت میاں صاحب بستر پر آرام فرما رہے تھے۔میں نے سلام عرض کیا۔آپ نے مصافحہ فرماتے ہوئے حسب معمول خیر وعافیت دریافت فرمائی اور فرمایا کہ میرا تو اب آخری وقت قریب آ رہا ہے۔مجھے ایک عرصہ سے منذر خوابیں آ رہی ہیں۔اور ان کی بناء پر میں ایسا سمجھتا ہوں میں نے عرض کیا کہ ان خوابوں میں وقت کی بھی تعیین ہے؟ ممکن ہے کہ یہ واقعہ کئی سالوں کے بعد رونما ہو۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات رؤیا و کشوف تین سو سال تک پورے ہوتے رہیں گے۔فرمایا کہ وقت کی تعیین تو نہیں ہے مگر میں علم تعبیر کی رو سے سمجھتا ہوں کہ میرا وقت قریب آ گیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔واللہ غالب علی امرہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر پر غالب ہے۔یہ سنگر آپ کی آواز میں بلندی اور شوکت پیدا ہوگئی۔فرمایا ہاشمی صاحب میرا اس آیت پر پورا یقین اور ایمان ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر پر غالب ہے اور اس کے سامنے عاجز