حیات بشیر — Page 377
377 بلند ہو رہی ہے۔یہ ایک بہت بڑا امتحان ہے لیکن اس کے پیچھے انشاء اللہ انعام بھی بڑا مخفی ہوگا۔قادیان میں اس وقت پچاس ہزار پناہ گزیں ہیں اور قادیان کے سارے میدان اور رستے اور فیلڈیں اس طرح بھری پڑی ہیں کہ حشر کا نظارہ سا نظر آتا ہے۔دار السلام کا باغ اور پورچ وغیرہ بھی اٹی پڑی ہیں۔اچھا ہوا آپ لوگ گئے۔ورنہ یہ نظارے آپ کی طاقت سے باہر تھے۔چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور سید ولی اللہ شاہ صاحب قتل عمد کے الزام میں گرفتار ہوچکے ہیں موجودہ فضا ایسی ہے کہ افسر جب چاہیں اور جس شخص کو چاہیں اور جو الزام چاہیں لگا کر کسی شخص کو گرفتار کر لیتے ہیں۔ایک دن میرے گھر کا محاصرہ ہو گیا۔اور تین طرف کی جگہوں میں پولیس اور ملٹری نے مشین گنیں لگا دیں حالانکہ بظاہر اس وقت یہاں کے تھانیدار مجھ سے شاہ صاحب کے متعلق حالات بتانے اور مشورہ لینے آئے تھے۔اس دن سے بعض بچے کچھ سہم سے گئے ہیں۔مگر خدا کے فضل سب کی ہمت اچھی ہے۔اور ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔آپ یہ باتیں دوسروں میں نہ پھیلائیں کیونکہ پریشانی ہوتی ہے البتہ دعائیں کریں اور خدا پر توکل رکھیں اور ام وسیم کو تسلی دلائیں کہ گھبرانے کی بات نہیں ہم شاہ صاحب اور چوہدری صاحب کو بچانے کے لئے پوری کوشش کر رہے ہیں یہ شکر کی بات ہے کہ ان کا لڑکا صفی اللہ، شاہ صاحب کی گرفتاری کے چند گھنٹے پہلے لاہور چلا گیا تھا۔اگر چوہدری صاحب کے بچے لاہور میں ہوں تو ان کو بھی تسلی دلائیں۔ان کی بیوی کو میں نے لاہور بھجوانا چاہا تھا۔مگر انہوں نے ستی کی اور نہیں گئیں۔ہم قادیان سے احمدی عورتوں اور بچوں کو جلدی جلدی باہر نکلوا رہے ہیں تا اگر کوئی خطرہ کی گھڑی مقدر ہے تو خدا کرے اس سے پہلے ہم اس ضروری فرض سے سبکدوش ہو جائیں۔ورنہ بڑی پریشانی ہوگی۔حضرت اماں جان کی صحت کی وجہ سے بہت فکر رہتا ہے۔آپ میری طرف سے طبیعت پوچھیں اور دعا کے لئے عرض کریں اور آج کل ان کی کچھ زیادہ خدمت کریں تا کہ میرا بھی کچھ حصہ شامل ہو جائے۔"امتہ الحفیظ بیگم کو السلام علیکم پہنچا دیں۔اسی طرح ہر سہ ممانیوں کو اور سب بچوں کو