حیات بشیر — Page 362
362 - ۴۳ ہوئی ہوں۔میری والدہ صاحبہ اور بہنیں بھی احمدی ہیں۔میری ایک بہن شادی شدہ ہے۔غیر احمدیوں کے گھر بیاہی ہوئی ہے۔میں سخت ابتلاء میں پڑی ہوئی ہوں کیا۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب سے مجھے بے پناہ محبت تھی۔میں ان کروں۔۔کو اپنی ہر تکلیف لکھا کرتی تھی۔وہ بہت شفقت سے تسلی سے بھر پور خط لکھتے۔اب بھی گئے۔میری آنکھوں سے ہر وقت آنسو رواں ہیں۔میں ہر وقت اُن کو یاد کر کے وہ روتی رہتی ہوں کہ میرا واحد سہارا بھی گیا۔حضرت میاں صاحب یقین کریں۔میں سخت ابتلاء میں پڑی ہوئی ہوں۔مجھے احمدیت سے بے پناہ محبت ہے لیکن ہم سب بہنوں کے رشتے غیر احمدیوں کے گھر ہونے ہیں ایسے میں مجھے کیا کرنا چاہیے۔میں کیسے ربوہ آؤں۔کیا کروں؟ میرے لئے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے احمدیت میں استقامت عطا فرمائے۔میرے والد صاحب کو (جو کہ علاقہ کے رئیس آدمی ہیں اور احمدیت میں داخل ہونا باعث ذلت سمجھتے ہیں) احمدیت میں داخل کرے اور مجھے کسی قسم کے امتحان میں نہ ڈالے۔آمین ثم آمین۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مصباح اور الفضل کی خریدار ہوں۔الفرقان بھی ایک سال کے لئے جاری کرایا تھا۔اب بند ہے۔ایسے بھی غم و فکر میں میری صحت گرتی جارہی ہے۔ہر وقت کے رونے سے سر میں بہت درد رہتا ہے۔میری صحت کے لئے بھی دعا فرماویں۔حضرت قمر الانبیاء کی وفات سے میری زندگی میں بہت بڑا خلا پڑ گیا ہے جو نہ پر ہو سکتا ہے اور نہ میرے آنسو خشک ہوں گے۔الفضل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور کی صحت ان دنوں اچھی ہے۔خدا تعالیٰ حضور کا بابرکت وجود تا دیر ہمارے درمیان سلامت رکھے۔آمین۔آپ کے جوتوں کی غلام 66 حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ایک صاحب کشف و الہام بزرگ تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ سے اکثر خط وکتابت رہتی تھی۔ان خطوط میں عموماً روحانی اسرار و رموز کا تذکرہ ہوتا تھا۔اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ چند خطوط وہ بھی درج کئے جائیں۔یہ خطوط حضرت مولانا موصوف کے لائق و فائق فرزند محترم مولوی برکات احمد صاحب راجیکی