حیات بشیر — Page 361
361 سے شفا دے۔آمین۔یہ خط درج کرنے کے بعد عزیزہ لکھتی ہیں: مرزا بشیر احمد “ آہ! مجھے کیا خبر تھی کہ یہ میرے آقا کا آخری خط ہے۔اس کے بعد میں ہمیشہ ہمیش کے لئے آپ کے شفقت بھرے سلوک سے محروم ہو جاؤں گی۔او فرشتہ سیرت انسان! آپ کی بتلائی ہوئی دوا سے میری بیماری دُور ہو گئی ہے لیکن مجھے اس کی اتنی خوشی نہیں جتنی مجھے آپ سے ملاقات کر کے ہوتی۔مجھے ہرگز معلوم نہ تھا کہ میں آپ کا آخری دیدار نہ کر سکوں گی۔میں دن رات روتی ہوں۔تڑپتی ہوں اور تا زندگی آپ کو یاد کر کے روتی رہوں گی اے اللہ! تیرے در کی سوالی تجھ سے بھیک مانگتی ہے۔میری دعا ضرور قبول فرما۔میں دنیا میں ترستی رہی اُن کے دیدار کو۔مگر تجھے منظور نہ تھا نہ ہوا۔اب مجھے آخرت میں اُن کے قدموں میں جگہ دینا۔اُن کی خادماؤں میں شمار کرنا۔یا اللہ ! مجھے بخش دینا۔میری دعا قبول کرنا۔آمین ثم آمین۔“ بالکل اسی قسم کے جذبات کا اظہار اس نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے نام ایک خط میں کیا ہے۔میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس خط کو بھی یہاں درج کر دوں تا احباب اندازہ لگا سکیں کہ حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ کے ساتھ لوگوں کو کس قدر محبت اور اُنس تھا۔وہ لکھتی ہیں۔- ۴۲ وو میں سے عزت مآب حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سلامت باشد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا تہ دس روپے کی ناچیز رقم حاضر خدمت ہے ان ، پانچ روپے میری امی جان کی طرف سے ہیں۔انہوں نے عید فنڈ کے لئے بھیجے ہیں اور پانچ روپے میری طرف سے ہیں۔یہ میں نے غریب طلبا کی امداد کے لئے بھیجے ہیں۔چونکہ الفضل میں اعلان آپ کی طرف سے تھا۔اس لئے آپ کو بھیجے ہیں۔قبول فرمائیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب! میں عاجزانہ لہجے میں آپ سے ایک درخواست کرتی ہوں۔میرے والد صاحب اور بھائی غیر احمدی ہیں۔۔جانے دیتے ہیں۔نہ ہی یوں کبھی ربوہ جانے کی اجازت دیتے ہیں۔میں سخت گھبرائی مجھے جلسہ سالانہ پر