حیات بشیر — Page 308
308 رہے میں کچھ نہیں چاہتی تو فرمانے لگے۔میری یہ شدید خواہش ہے کہ تمہاری گود میں لڑکا دیکھوں اور میں دعا بھی کرتا رہتا ہوں۔پھر ساتویں لڑکی پیدا ہوئی۔تو حضور خاموش اور کوئی ذکر نہ کیا۔حضور میرے لئے دعا کرتے رہے اور بعض مرتبہ ڈاکٹر صاحب ملنے کے لئے جاتے اور کوئی بزرگ پاس بیٹھے ہوتے تو مل کر دعا فرماتے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو لڑکا عطا فرمائے آخر اللہ تعالیٰ نے حضور کی دعائیں قبول فرمائیں اور عاجزہ کو لڑکا دیا۔ڈاکٹر صاحب اطلاع دینے آپ کی خدمت میں گئے۔ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ میں مٹھائی دیکھ کر سمجھ گئے اور بیتابی سے پوچھا۔جلدی بتاؤ کیا خبر لائے ہو؟ اور بغیر جوتا پہنے دروازہ تک جلدی قدم بڑھاتے آگئے۔ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے لڑکا عطا فرمایا ہے تو فرط انبساط میں ڈاکٹر صاحب کو سینہ سے لگا کر خوب بھینچا اور بار بار بغلگیر ہوتے اور فرماتے جاتے۔الحمد للہ الحمد للہ اور مجھے نہایت ہی پُر زور شفقت بھرا مبارک باد کا خط لکھا کہ آخر خدا نے تمہاری سن ہی لی۔“ -۲ ”جب ہم قادیان سے نو سال کی درویشی کے بعد ربوہ آئے تو ہمارا تمام اندوختہ ختم ہو چکا تھا۔کچھ سرینگر رہ گیا کچھ قادیان کے زمانہ میں خرچ ہوگیا۔ربوہ میں کرایہ کے مکان میں رہنا پڑا۔پینتیس روپے کرایہ تھا۔بڑی مشکل کے دن تھے۔ربوہ میں زمین میں پہلے خرید چکی تھی۔اس لئے اپنا مکان بنانے کا ارادہ کیا۔مکان بنانے کے لئے روپیہ نہیں تھا۔اس لئے زرعی زمین میں سے کچھ حصہ فروخت کر دیا۔اور فروخت کا سودا کر کے بیعانہ بھی وصول کر لیا۔میں حضرت میاں صاحب کی خدمت مبارک میں دعا کے لئے حاضر ہوئی۔سب قصہ عرض کیا۔سن کر سختی سے منع فرمایا کہ زرعی زمین ہرگز فروخت نہیں کرنی چاہیے۔یہ کوئی عظمندی نہیں کہ زمین بیچ کر مکان بناؤ۔میں گھبرا گئی اور عرض کیا کہ ہمارے لئے ماہوار کرایہ دینا مشکل ہے اور اب تو سودا بھی پختہ ہو چکا ہے۔بیعنامہ بھی لے چکے ہیں اور مقررہ تاریخ پر باقی رقم وصول کرنی ہے۔حضور نے فرمایا ”مکان خود بخود بن جائے گا۔زمین نہیں بیچنی میں بار بار عرض کرتی کہ اب تیر ہاتھ سے نکل چکا ہے۔آپ بار بار یہی فرماتے۔نہیں! زمین نہیں فروخت کرنی مکان بن جائے گا۔دعا