حیات بشیر — Page 309
309 کرو اللہ تعالیٰ مدد فرمائے گا۔یہ ایک معجزہ ہے۔جو الفاظ قمر الانبیاء کی زبان مبارک سے نکلے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت عظیمہ سے پورے فرمائے۔الحمد للہ۔زمین کے گاہک نے جس تاریخ کو روپیہ ادا کرنا تھا کسی وجہ سے وہ دن لیٹ ہو گیا اور بموجب معاہدہ سودا ضح ہو گیا۔گو معاہدہ کی رُو سے زربیعانہ ایک ہزار ہمارا حق تھا لیکن ہم نے یہ رقم بھی اسی خوشی میں گاہک کو واپس کر دی اور وہ بھی خوش ہوگیا۔ہماری زمین ہمارے پاس رہی اور اللہ تعالیٰ کے پیارے کی بات پوری ہوئی۔/۳۰۰۰ روپیها دوسرا مرحلہ مکان بنانے کا تھا۔حضرت میاں صاحب کی ہدایت کے بموجب انجمن سے قرض لیا اور مکان کی بنیادیں رکھ دیں۔اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ روزانہ مستری مزدوروں اور دیگر چھوٹے اخراجات کے لئے وہ رقم بھیج دیتا اور جب تک مکان بنتا رہا یہ سلسلہ برابر جاری رہا۔اس سال زمین کی فصل سے بھی غیر معمولی آمد ہوئی اور مکان بنتے بنتے اچھی خاصی کوٹھی تیار ہو گئی۔جو حصہ مکان اس وقت ہم نے نہ بنایا اب اکثر کف افسوس ملتے ہیں کہ اگر اس وقت بنا لیتے تو اللہ تعالیٰ کا فضل جاری تھا ضرور بن جاتا۔اس وقت کی حالت یاد کر کے اللہ تعالیٰ کی قدرت یاد آتی ہے اور حیرانی ہوتی ہے کہ اتنا بڑا مکان بغیر ٹھوس سرمایہ کے کیسے بن گیا۔“ 110 ان واقعات سے ظاہر ہے حضرت میاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ کے ان خاص مقبول بندوں میں سے تھے کہ جن کی زبان سے اگر کوئی بات نکل جائے تو اللہ تعالیٰ اس بات کو پورا کرنا اپنے اوپر فرض کر لیتا ہے۔جماعت کا نظام اخوت ایک نہایت ہی اہم اور قیمتی سبق آپ نے سلسلہ کے اعلیٰ کارکنوں کو یہ دیا کہ بے شک ستیاں کرنے والوں اور غافلوں کو بیدار کرنے کے لئے اُن کے خلاف تعزیری کارروائیاں کرولیکن اس امر کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ آخر وہ ہمارے بھائی ہیں اور ہمارا سارا نظام باہمی اخوت پر مبنی ہے۔محترم ہاشمی صاحب کا بیان ہے کہ