حیات بشیر — Page 272
272 غیر مسلم بھی اس چشمہ سے برابر فیضیاب ہو رہے تھے۔چنانچہ آپ کی وفات پر جالندھر سے نکلنے والے ایک اخبار بھیم پتر کا“ نے لکھا: احمدی جماعت کے ممتاز اور ٹھکرائی خلق کے عظیم خدمتگار مرزا بشیر احمد صاحب ایک لمبی علالت کے بعد چند دن ہوئے پاکستان میں رحلت فرما گئے۔مرزا صاحب علم و ادب اور بلند ترین انسانی قدروں کے مجسمہ تھے۔انہوں نے اپنی ساری زندگی بنی نوع انسان کی بہتری اور بہبودی کے لئے صرف کی۔اچھوت پکارے جانے والے کروڑوں دبے کچلے لوگوں کو سماجی مخلصی سے نجات دلانے کے لئے جو قابل داد خدمت انہوں نے اپنے حیران کن طریقوں سے سر انجام دی اس کے لئے انہیں ہمیشہ کے لئے یاد کیا جاتا رہے گا۔“۔عظیم حوصلہ اور قوت برداشت آپ عظیم حوصلہ اور قوت برداشت کے مالک تھے جس کی وجہ سے آپ کی نظر بڑی وسیع تھی اور آپ ہر امر کے حسن و قبح پر برابر نگاہ رکھتے تھے۔چنانچہ تقسیم ملک کے وقت ۱۹۴۷ء میں جو عظیم مصیبت اور رُوح فرسا حادثہ ہندوستان کے مسلمانوں کو برداشت کرنا پڑا۔اس سے احمدی بھی مستثنیٰ نہیں تھے بلکہ ایک لحاظ سے احمدیوں کو ذہنی لحاظ سے زیادہ دھکا لگا اور وہ اس طرح کہ پہلی تقسیم کی رُو سے قادیان پاکستان میں شامل ہو گیا تھا مگر ریڈکلف ایوارڈ کے قطعی اعلان پر معلوم ہوا کہ قادیان انڈیا میں شامل کر لیا گیا ہے۔اس پر اکثر احمدی جو ذہنی طور پر اس خبر کو سننے کے لئے تیار ہی نہیں تھے۔سخت گھبرا گئے۔مگر آفرین ہے آپ پر کہ ہزاروں دلوں کی ڈھارس کا موجب بنے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری فرماتے ہیں: جس دن یہ اعلان ہوا وہ رمضان المبارک کا آخری دن تھا۔ہم لوگ مسجد اقصیٰ میں اعتکاف میں تھے۔قرآن مجید کا درس ختم ہوا تھا اور دعا کے لئے سب احباب بہت پر مسجد اقصیٰ میں جمع تھے۔ہمیں وہاں پر ہی یہ اطلاع مل گئی جس سے طبیعتوں افسردگی تھی۔دوسرے دن عید تھی میں مسجد اقصیٰ سے اعتکاف کے خاتمہ پر مغرب کی نماز کے بعد اپنے گھر واقعہ دارالعلوم کو جارہا تھا۔دل نے چاہا کہ حضرت میاں صاحب سے مل کر جاؤں۔ان کے مکان پر پہنچا تو بعض اور احباب بھی افسردگی کی حالت میں حضرت میاں صاحب سے مل رہے تھے۔جونہی میں آگے