حیات بشیر — Page 258
258 آگے کرتا رہا۔اس دوران میں دو دفعہ آپ کرسی پر بیٹھے اور دو دفعہ ہی اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔دراصل آپ ہر دوست سے کھڑے ہو کر مصافحہ کرنا چاہتے تھے لیکن جب ٹانگیں بالکل ہی جواب دے جاتیں تو تھوڑا سا سہارا لے کر چند منٹ بیٹھ جاتے۔لیکن پھر فرماتے مجھے کھڑا کر دو۔اس وقت اندرونی درد اور کرب کی وجہ سے آپ کو بے حد تکلیف تھی جس کا اظہار تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد منہ زور سے بھینچ لینے سے ہوتا تھا۔لیکن زبان سے قطعاً اظہار نہ ہوتا تھا بلکہ مصافحہ کے وقت بعض دوست بلکہ بچے تک جب کچھ عرض کرتے تو نہایت خندہ پیشانی، بشاشت اور توجہ سے اس کی بات سنتے اور مسکرا کر جواب دیتے۔میں نے دو تین دفعہ عرض کیا کہ اگر اجازت دیں تو یہ ملاقات بند کر دی جائے۔لیکن آپ نے ہر دفعہ فرمایا نہیں حتی کہ مسجد میں موجود لوقت سینکڑوں احباب نے مصافحہ کیا اور بعض نے عرضیں بھی پیش کیں۔اس کے بعد آہستہ آہستہ چل کر آپ باہر تشریف لے گئے۔اللہ اللہ ! کس قدر بلند اخلاق ہیں کہ جن کی مثال انبیائے کرام، خلفاء اور سلف صالحین ہی میں مل سکتی ہے۔‘ ۲۰ محترم صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب بھی غالباً اسی عید کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب آپ کو : بڑی کوفت ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ اس بیماری کی حالت میں خواہ مخواہ کوفت کیوں اٹھائی۔فرمانے لگے ” مجھے ہمیشہ یہ احساس رہتا ہے کہ یہ لوگ جو ہماری عزت کرتے ہیں۔مصافحہ کرتے ہیں اور ملنا چاہتے ہیں یہ سب کچھ اسی لئے کرتے ہیں کہ ہم مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد ہیں۔یہ حضرت اقدس کی نمائندگی کی ذمہ داری ہے اور میں اس بات سے بہت ڈرتا ہوں کہ کہیں اس میں کوتاہی نہ ہو جائے اس لئے تکلیف اُٹھا کر بھی ایسا کرتا ہوں۔“ اے آپ چونکہ بہت ہی مصروف الاوقات انسان تھے اور ایک بہترین مصنف اور منتظم ہونے کی وجہ سے آپ کو بہر حال ملاقات کرنے والوں کے لئے وقت مقرر کرنا پڑتا تھا۔لیکن اگر کوئی بیوقت بھی آجاتا تو آپ انکار ہر گز نہیں فرماتے تھے۔ہم نے دیکھا ہے کہ بیماری کے ایام میں بھی گھنٹہ گھنٹہ آپ سے ملاقات کا موقعہ ملا ہے۔آپ پلنگ پر لیٹے ہوئے ہیں اور اصلاح وارشاد