حیات بشیر — Page 256
256 صاحبزادی محترمہ حمیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم پروفیسر بشارت احمد الرحمن صاحب ایم اے فرماتی ہیں: ” جب میں آپ کے پاس سلام کرنے اور دعا کی درخواست کرنے جاتی تو مجھے اس امر کا حوالہ دیتے کہ تم میرے استاد کی لڑکی ہو ایک دفعہ قادیان میں مجھے اور میری ہمشیرہ کو اپنے باغ کا بہت بڑا آم دیا اور کاغذ کی چٹ پر میرا اور میری بہن سکینہ بیگم کا نام لکھ کر اس آم پر چسپاں کر دیا۔آپ فرماتے تھے یہ میرے استاد کی بیٹیاں ہیں۔اللہ اللہ ! کس قدر عظیم اخلاق کے مالک تھے اور کس طرح ایک چھوٹی سی بات کو ساری عمر یاد رکھا۔“ ۵۹۔حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب حلالپوری مولوی فاضل و منشی فاضل والد ماجد محترم مولوی محمد احمد صاحب جلیل پروفیسر جامعہ احمدیہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے بھی استاد تھے اور ہمارے بھی استاد تھے۔آپ جامعہ احمدیہ میں پروفیسر تھے۔جب ریٹائر ہوئے تو عموماً روزانہ تین آدمیوں کے پاس جایا کرتے تھے۔خاکسار ان دنوں محلہ دارالرحمت میں مسجد کے قریب رہا کرتا تھا۔سب سے پہلے از راہ نوازش غریب خانہ پر تشریف لایا کرتے تھے۔کچھ دیر خاکسار کے ہاں قیام فرما کر ریتی چھلہ میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کے پاس جاتے تھے۔حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ کے آپ سے بہت ہی مخلصانہ تعلقات تھے۔عموماً گرمی کی رخصتوں میں وہ جہاں بھی ڈیوٹی پر ہوتے آپکو اپنے پاس بلا لیا کرتے تھے۔ریٹائر ہونے کے بعد بھی ان دونوں بزرگوں کی اکثر آپس میں ملاقات رہتی اور مسائل دینیہ پر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔دونو بزرگ لطیف رنگ میں مزاح سے بھی لطف اندوز ہوا کرتے تھے مگر ایک دوسرے کے ادب و احترام میں ذرا فرق نہیں آتا تھا۔حضرت ڈاکٹر صاحب سے کچھ دیر ملاقات کرنے کے بعد آپ شہر میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور اس دورہ میں کبھی کبھی مجھے بھی ساتھ چلنے کے لئے ارشاد فرماتے تھے خاکسار یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا کہ حضرت قمر الانبیاء رضی اللہ عنہ تو آپ کو اپنا استاد سمجھ کر عزت واحترام کرتے تھے لیکن حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ آپ کو شعائر اللہ جانتے ہوئے عزت و تکریم کرتے تھے۔علاوہ ازیں حضرت میاں صاحب کے اوصاف جمیلہ اور ذاتی عظمت کا بھی بڑا اثر تھا اور یہ مقدس ملاقات بعض اوقات کئی کئی گھنٹے رہتی تھی۔علمی مسائل بھی زیر بحث آیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی یاد بھی تازہ ہوتی رہتی تھی اور نہایت ہی پاکیزہ مزاح سے بھی دونوں بزرگ خوش وقت ہوتے تھے۔اللہ اللہ! کیا عجیب بابرکت