حیات بشیر

by Other Authors

Page 255 of 568

حیات بشیر — Page 255

255 میں نکلا تو ایک دکاندار نے مجھے کہا کہ آپ کی تلاش میں حضرت میاں بشیر احمد صاحب کا ملازم پھر رہا ہے۔میں فوراً حضرت میاں صاحب کی بیٹھک میں چلا گیا۔وہاں دسترخوان پر کھانا وغیرہ پڑا تھا۔مکرمی جناب شمشاد خاں صاحب مرحوم اور حضرت میاں صاحب میرے انتظار میں بیٹھے تھے۔میں نے السلام علیکم عرض کر کے کہا کہ میں نے تو روٹی کھالی ہے۔ان کے ماتھے پر کسی قسم کا ملال کے آثار نہ تھے۔ہنس کر فرمایا کہ اب ہمارے ساتھ بھی شامل ہو جائیں۔چنانچہ میں شامل ہوا۔کھانا کھایا اور بچپن کی لاپرواہی کے باعث میں معذرت تک نہ کر سکا۔۷ھ۔منتظمین مہمانخانہ کو نصیحت اکرام ضیف کا آپ کو اس قدر خیال رہتا تھا کہ دارالضیافت کے منتظمین کو بھی تاکید فرماتے رہتے تھے کہ مرکز میں آنے والے مہمانوں کا خاص خیال رکھا کریں۔چنانچہ ایک مرتبہ انہیں پر زور نصیحت فرمائی کہ مرکز میں آنیوالے مہمانوں کو خدائی مہمان سمجھ کر ان کے اکرام اور آرام کا انتہائی خیال رکھیں۔اور ان کی دلداری میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں اور مرکز کے مہمان خانہ کو ایک روحانی مکتب سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو اس مکتب کا خادم تصور کریں اور اگر کسی مہمان کی طرف سے کبھی کوئی تلخ بات بھی سننی پڑے تو اپنے ماتھے پر بل نہ آنے دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب تک زندہ رہے حضور نے لنگر خانہ کے انتظام کو ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھا تاکہ انجمن کی طرف منتقل ہونے کے نتیجہ میں کسی خدائی مہمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور مہمان خانہ کے دینی ماحول میں فرق نہ آنے پائے۔سو اب یہ مہمانخانہ جماعت کے ہاتھ میں ایک مقدس امانت ہے اور خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ مرکزی کارکن اس امانت کو کس طرح ادا کرتے ہیں۔یہ امر خوشی کا موجب ہے کہ اب کچھ عرصہ سے مہمانخانہ کے انتظام میں کافی اصلاح ہے مگر نرخ بالا کن که ارزانی ہنوز “ ۵۸۔اساتذہ کی قدر حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ اپنے اساتذہ کرام کی بھی بہت قدرو منزلت کیا کرتے تھے۔آپ نے حضرت میرزا غلام رسول صاحب پشاوری سے کسی جماعت میں پڑھا تھا۔ان کی