حیات بشیر — Page 254
254 مظاہرے عنقا ہوتے جاتے ہیں۔“ حضرت میاں طاہر احمد صاحب فرماتے ہیں: پس جب بشیر سے یہ واقعہ سنا تو حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ کے لئے دل سے خود بخود ایک بے اختیار دعا نکلی۔ایک ایسی دعا جو ایک غیرارادی حرکت کی طرح دل سے پھوٹتی ہے۔اب ایسے ذرہ نواز ایسے منکسر المزاج وجود ہم میں کتنے رہ گئے ہیں۔جو ہیں خدا انہیں سلامت رکھے اور جو گزر گئے انہیں اپنی رحمتوں کے سائے تلے جگہ دے۔آمین‘ ۵۶ جناب خان سعد اللہ خاں صاحب ایڈووکیٹ آف مردان فرماتے ہیں: ۱۸ - ۱۹۱۷ء کا واقعہ ہے کہ میں زمانہ طالب علمی میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں بارہ پندرہ یوم بطور مہمان رہا۔علاوہ دیگر واقعات کے مندرجہ ذیل باتوں کا میرے دل پر خاص اثر رہا ہے۔اپریل کا مہینہ تھا۔کھانا کھانے کے بعد عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر ان کی بیٹھک کے صحن میں سو جایا کرتا تھا۔رات تو سوتے وقت مجھے قطعاً خیال نہیں رہتا تھا کہ آیا میرے پاس پینے کے لئے، وضو کرنے کے لئے پانی ہے یا نہیں؟ جب صبح اٹھتا تو میرے نزدیک میز پر پانی کا جگ، وضو کے لئے پانی کا لوٹا اور تولیہ موجود ہوتا تھا۔بچپن کی بے پروائی کے باعث حسب معمول اُٹھ کر وضو کر کے نماز پڑھ کر چائے کے انتظار میں بیٹھا رہتا تھا اور کبھی یہ خیال نہ آتا تھا کہ پانی کا لوٹا اور تولیہ کہاں سے آجاتا ہے۔ایک دن صبح کی اذان کے وقت نیم خوابیدہ حالت میں چار پائی پر پڑا تھا۔کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت میاں صاحب موصوف میری چارپائی کے قریب پانی کا لوٹا اور کرسی پر تولیہ رکھ کر خود مسجد تشریف لے گئے۔اسی طرح روزانہ میرے قیام کے دوران وہ کرتے رہے۔-۲ دو پہر کا کھانا ہم اکٹھے کھایا کرتے تھے۔ایک دن مہمانخانہ میں پٹھانوں نے مجھے کھانے کے لئے ٹھہرایا۔چنانچہ میں ٹھہر گیا اور کھانا اُن کے ساتھ کھا لیا۔دل میں یہ خیال نہ آیا کہ حضرت میاں صاحب میرا انتظار کرتے ہوں گے اور اطمینان سے پٹھانوں کے ساتھ گفتگو میں مشغول تھا۔تھوڑی دیر کے بعد جب میں باہر بازار