حیات بشیر

by Other Authors

Page 205 of 568

حیات بشیر — Page 205

205 66 فرماتے تھے اور پھر ان کی روشنی میں کوئی نصیحت کرتے تھے۔“ ۲۰ مکرم مختار احمد صاحب ہاشمی ہیڈ کلرک دفتر خدمت درویشاں کا بیان ہے کہ: ایک مرتبہ حضرت میاں صاحب نے مجھے ایک مسودہ املا کرایا۔اس میں ایک فقرہ یہ بھی تھا کہ حضرت رسول کریم اللہ نے فرمایا، میں نے جلدی میں صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے صرف صلعم لکھ دیا۔دستخط کرتے وقت فرمایا کہ صلعم لکھنا ناپسندیدہ ہے۔جب اتنی طویل و عریض عبارتیں لکھی جا سکتی ہیں تو صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ ہی تخفیف کا خیال کیوں آ جاتا ہے۔پھر اپنی قلم صلی اللہ علیہ وسلم لکھ دیا۔چنانچہ اس کے بعد میں نے پھر کبھی د صلح نہیں لکھا۔اس موقعہ پر آپ نے مزید فرمایا کہ مجھے انگریزی میں محمد کا مخفف ”MOHD بھی سخت ناپسند ہے اور مجھے Mohd لکھا ہوا دیکھ کر ہمیشہ ہی افسوس اور رنج پہنچا ہے۔نمعلوم کس نے یہ مکروہ ایجاد کی ہے اور تخفیف کا سارا زور صرف ”محمد“ کے نام پر ہی صرف کر ڈالا ہے۔ނ وو ایک دفعہ حضرت میاں صاحب نے بیرون پاکستان کے مبلغین کو دفتر کے مطبوعہ پیڈ کی بجائے سفید کاغذ پر خطوط بجھوائے۔میں نے اُن کی ابتدا میں بسم اللہ الرحمن ا الرحیم۔محمدہ ونصلی علی رسوله الكريم والصلوة والسلام علی عبدہ اسیح الموعود لکھ دیا۔دستخط کرتے وقت فرمایا کہ آپ نے حضرت مسیح موعود کے ساتھ صلوٰۃ اور سلام دو چیزیں لکھی ہیں اور حضرت رسول کریم کے ساتھ صرف صلوۃ یہ طریق درست نہیں۔یہ آتا ہیں اور وہ غلام اس مقام پر ”وعلی عبدہ امسیح الموعود (لکھنا) کافی البتہ اگر کہیں الگ لکھنا ہو تو والصلوۃ والسلام لکھنے میں حرج نہیں۔“ اے خاکسار راقم الحروف سے بھی ایک مرتبہ آپ نے یہ دریافت فرمایا تھا کہ آپ حضرت مسیح ہے۔موعود علیہ السلام کے ذکر پر علیہ الصلوۃ والسلام لکھتے ہیں یا علیہ السلام پر ہی کفایت کرتے ہیں۔میں چونکہ ”علیہ الصلوۃ والسلام“ لکھا کرتا تھا اس لئے میں نے عرض کی کہ حضور ! میں تو ”علیہ الصلوۃ والسلام لکھا کرتا ہوں۔اس پر آپ خاموش ہو گئے۔مگر میں نے محسوس کر لیا کہ آپ کو علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت ”علیہ السلام لکھنا زیادہ پسند ہے تا آقا اور غلام میں امتیاز قائم رہے۔