حیات بشیر — Page 199
199 احمد یہی دُعا ہے کہ روز جزا نصیب تجھ کو نبی کریم کا قرب وجوار ہو ۱۲ نظم سے ظاہر ہے کہ اُن ایام میں آپ ” احمد تخلص کیا کرتے تھے۔اس نظم میں جن پاکیزہ جذبات کا اظہار کیا گیا ہے اُن سے واضح ہے کہ اُٹھتی جوانی میں بھی جب کہ عوام الناس حیوانیت کے جذبات کا شکار ہوتے ہیں اور آخرت کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔آپ ایک عظیم روحانی لیڈر کی طرح جذبات کی دُنیا سے الگ ہو کر اپنے خالق و مالک کے حضور سراپا نیا ز بنے نظر آتے ہیں۔میں یہ امر قارئین کرام پر واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون میں میں نے رکسی ترتیب کو مد نظر نہیں رکھا۔آپ کی زندگی کے حالات جو ترتیب سے لکھے جاسکتے تھے وہ پہلے باب میں درج ہو چکے ہیں۔یہاں تو آپ کی صفاتِ حسنہ کا ذکر کیا جارہا ہے۔اور بالکل ممکن ہے ہے کہ ایک واقعہ آپ کا بچپن کا بیان کیا جائے اور اس کے ساتھ ہی مضمون کی مناسبت کے لحاظ سے دوسرا بڑھاپے کا کیونکہ مقصود صرف واقعات کے آئینہ میں آپ کی پاکیزہ زندگی کا بیان ہے۔سب سے پہلے ہم آپ کے حلیہ ،لباس، اور خوراک کا ذکر کرتے ہیں۔آپ کا حلیہ آپ کی شکل نورانی، قد لانبا، وجیہ چہرہ، موٹی موٹی مگر نیم وا آنکھیں، اُبھری ہوئی ناک، بھرے بھرے ہاتھ پاؤں اور جسیم و پُر وقار وجود دیکھ کر ہر شخص یہ سمجھنے پر مجبور تھا کہ یہ کوئی معمولی انسان نہیں ہے۔مجھے خوب یاد ہے اور یہ کوئی ۱۹۳۷ء کی بات ہے جب حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز پہلی مرتبہ حیدر آباد سندھ تشریف لے گئے۔حضور کے ساتھ آپ کے علاوہ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب اور محترم شیخ یوسف علی صاحب پرائیویٹ سیکرٹری بھی تھے۔ان ایام میں مسٹر حافظ شہر کے سٹی مجسٹریٹ تھے۔وہ گو احمدی نہیں تھے۔مگر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی آمد کا ذکر سن کر انہیں قدرتی طور پر دلچسپی پیدا ہو گئی تھی اور انہوں نے حضور کے استقبال کے لئے شہر اور ماحول شہر کی صفائی کا خاص اہتمام کیا تھا۔ڈاک بنگلے میں حضور کا قیام تھا اور مسٹر حافظ خود بنفس نفیس ان سندھی احمدیوں کو کھانا کھلا رہے تھے جو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ملاقات اور زیارت کے لئے ارد گرد کے علاقوں سے حاضر ہوئے تھے۔اس موقعہ پر جب مسٹر حافظ نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو گہری نگاہ سے دیکھا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ حضور شیخ یوسف علی صاحب مرحوم کی پیش کردہ ڈاک ملاحظہ فرما کر انہیں جوابات بھی دے