حیات بشیر — Page 101
101 مقامی امیر ۱۹۳۸ء کے واقعات ۲۷ / اپریل ۳۱ ء کو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ اراضیات کے معائنہ کے لئے سندھ تشریف لے گئے۔مقامی امیر حضور نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو مقرر فرمایا۔۲۳۹ انسداد ہیضہ کی تدابیر آپ کی امارت کے دوران قادیان میں ہیضہ کی وبا کا خطرہ محسوس ہوا۔اس پر آپ نے فوراً انسدادی تدابیر اختیار کرنے اور بلالحاظ مذہب و ملت تمام باشندگان قادیان کے لئے انتظامات کرنے کا خاص ارشاد فرمایا اور خود ضروری ہدایات لکھ کر تمام محلوں میں بھجوائیں تاکہ سب لوگوں کو سنا دی جائیں۔تمام کنوؤں میں کرم کش دوائی ڈالی گئی اور ٹیکہ لگوانے کا فوری انتظام کر دیا گیا۔الحمد للہ کہ ان تدابیر کے نتیجہ میں ہیضہ کا کوئی ایک کیس بھی نہ ہوا اور معمولی بیمار اچھے ہوگئے۔۲۴۰ قائمقام ناظر اعلیٰ جون ۳۸ء میں جناب چوہدری فتح محمد صاحب چند روز کے لئے مری تشریف لے گئے تو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو قائمقام ناظر اعلیٰ مقرر فرمایا۔۲۴۱ جولائی ۳۸ ء میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے ماتحت آپ نے نظارت تعلیم و تربیت کا چارج حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو دے دیا اور خود سیرت خاتم النبین ﷺ کی تکمیل میں مصروف ہو گئے۔۲۴۲ مقامی امیر ۱۸ ستمبر ۳۸ ء کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ لاہور تشریف لے گئے تو حضور نے پھر مقامی امیر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو مقرر فرمایا۔۲۴۳ صاحبزادگان کا استقبال ۹ نومبر ۳۸ ء کو حضرت مولوی شیر علی صاحب ، درد صاحب مرحوم ، صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب ولایت سے تشریف لائے تو ان کے استقبال کے لئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بٹالہ تشریف لے گئے۔۳ ۲۴۴