حیات بشیر

by Other Authors

Page 339 of 568

حیات بشیر — Page 339

339 چوتھا باب آپ کے خطوط اور پیغامات باوجود اس بات کے کہ آپ معمور الاوقات تھے۔ہزاروں انسانوں کے خطوط و مراسلات کا عمدگی اور باقاعدگی کے ساتھ جواب دیا کرتے تھے اور ایسے صائب اور صحیح مشورے دیا کرتے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ہر شخص کے ذاتی حالات سے آپ کو واقفیت تھی۔سچ تو یہ ہے کہ حضرت المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے بعد ساری جماعت میں کم از کم میری نظر سے کوئی ایسا انسان نہیں گذرا۔جس کے حافظہ اور ذہانت کا یہ حال ہو۔آپ کے قلم سے جو تحریر بھی نکلتی تھی۔خواہ مضامین کے رنگ میں ہو یا خطوط اور پیغامات کی صورت میں، ایسے بچے تلے الفاظ استعمال کرتے اور ایسی اعلیٰ ترتیب قائم رکھتے تھے کہ پڑھ کر آپ کے لئے دل سے دُعا نکلتی، اور یوں معلوم ہوتا جیسے آپ اپنی تحریر کے ہر مرحلہ پر اللہ تعالیٰ سے صحیح اور صائب راہ پر چلنے کی توفیق طلب کرتے ہوئے لکھتے تھے۔خصوصاً واقفین زندگی اور مبلغین سے جب آپ خطاب فرماتے تھے تو آپ کا انداز تحریر اور طرز خطابت ایسا دلکش، محبت آمیز، سادہ اور ہمدردانہ ہوا کرتا تھا کہ پڑھنے والا یوں محسوس کرتا تھا کہ جیسے آپ کسی نہایت ہی عزیز و قریبی رشتہ دار کو لکھ رہے ہیں۔ایسے خطوں میں آپ عموماً عزیزم مکرم، یا عزیز مولوی صاحب لکھ کر خطاب فرمایا کرتے تھے اور خطوط میں جہاں مبلغین کے کام کی قدردانی فرماتے تھے وہاں انہیں زیادہ محنت اور کوشش سے کام کرنے اور دعائیں کرنے کی بھی تحریک فرمایا کرتے تھے۔سب سے زیادہ زور آپ اس امر پر دیا کرتے تھے کہ اپنا نمونہ نیک بناؤ اور نومبائعین اور زیر تبلیغ احباب کے سراپا ہمدرد بن جاؤ وغیرہ وغیرہ۔ذیل میں ہم آپ کے کچھ خطوط اور مراسلات درج کرتے ہیں جن کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ آپ اپنی مختصر سی تحریر میں اتنی باتیں کہہ جاتے تھے کہ حیرت ہوتی ہے۔محترم سید داؤد احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ کو مخاطب کر کے تحریر فرمایا: -1 مکرمی محترمی پرنسپل صاحب جامعہ احمدیہ ربوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی اہم ترین اغراض میں سے ایک غرض کسر صلیب ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے اپنی زندگی میں مسیحیت کے باطل خیالات