حیات بشیر

by Other Authors

Page 296 of 568

حیات بشیر — Page 296

296 امانتوں کا خیال قادیان اور ربوہ میں گو صدر انجمن احمدیہ کے خزانہ میں امانتوں کے رکھنے کا انتظام موجود ہے جو شخص چاہے ذاتی امانت کے طور پر اپنا کھاتہ کھلوا سکتا ہے۔مگر اس کے باوجود بھی بعض لوگ اپنی امانتیں حضرت میاں صاحب کے پاس رکھا کرتے تھے اور سمجھا کرتے تھے کہ دفاتر کے تو اوقات مقرر ہیں مگر حضرت میاں صاحب سے ہر وقت امانت واپس لی جا سکتی ہے۔مکرم مولوی محمد اسماعیل صاحب ذبیح کا بیان ہے کہ قادیان دارالامان کے زمانہ میں جبکہ میں بسلسلہ ملازمت قادیان سے باہر تھا۔میری بیوی نے کچھ رقم حضرت میاں صاحب کے پاس امانت رکھی ہوئی تھی۔میں چھٹی پر گھر گیا تو ایک دن اتفاق سے روپوں کی ضرورت پیش آگئی۔مگر وہ وقت ایسا تھا کہ آپ کی مصروفیات کے پیش نظر روپیہ کی واپسی کے لئے عرض نہیں کی جا سکتی تھی کیونکہ کلرک وغیرہ سب دفتر کا وقت ختم ہونے کی وجہ سے جا چکے تھے۔اس لئے میں نے بیوی سے کہا کہ اس وقت تو جانا مناسب نہیں میری بیوی کہنے لگی۔آپ بے خوف چلے جائیں۔امانتوں کا حساب ہر وقت آپ اپنی جیب میں رکھتے ہیں۔خیر میں بیوی کے اصرار پر حاضر خدمت ہو گیا اور روپوں کی ضرورت بتلائی۔آپ نے فوراً اپنی جیب سے ایک بڑا سا کاغذ نکالا اور فرمایا پورا حساب تو دفتر میں ہے کیونکہ کبھی آپ کی بیگم صاحبہ نے رقم جمع کروائی اور کبھی واپس لی ہے۔مگر اس وقت اتنی رقم باقی ہے وہ آپ لے سکتے ہیں۔“ اس واقعہ سے احباب اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کو امانتوں کی واپسی کا کس قدر خیال رہتا تھا اور کس قدر احتیاط کے ساتھ آپ تمام لوگوں کی امانتوں کا حساب اپنی جیب میں رکھا کرتے تھے اور جس وقت بھی کوئی شخص مطالبہ کرتا تھا آپ اسی وقت اس کی امانت اس کے حوالہ کر دیتے تھے۔مرکز سلسلہ سے محبت مرکز سلسلہ سے آپ کو اس قدر محبت تھی کہ سوائے اشد مجبوری کے آپ مرکز سے باہر رہنا ہرگز پسند نہیں فرماتے تھے۔مکرم سید مختار احمد صاحب ہاشمی فرماتے ہیں: دو ایک مرتبہ جبکہ آپ لاہور میں تھے مجھے تحریر فرمایا کہ وو ” مجھے روزانہ ربوہ کے موسم کا حال لکھتے رہیں کیونکہ اب میں موسم کے بدلتے ہی