حیات بشیر — Page 226
226 کی سنت کے مطابق ہوتا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کا ہی بیان ہے کہ ۲۲ /اگست ۱۹۶۳ء کو میں مری سے واپسی پر لاہور پہنچا۔اسی روز آپ کی صاحبزادی امتہ المجید بیگم ڈھاکہ کے لئے روانہ ہوئی تھیں۔ان سے بار بار کہا کہ امتہ المجید اب تم مجھ سے پھر نہیں ملو گی اور روتے ہوئے اسے رخصت کیا۔اس دن طبیعت اسی خیال سے سخت اداس اور بیقرار رہی۔پھر دوسرے روز برادرم مرزا انور احمد کے ساتھ آپ کی صاحبزادی امتہ الحمید بیگم نے ربوہ واپس جانا تھا۔میں بھی اسی کار میں ساتھ جا رہا تھا۔جب وہ سلام کرنے کے لئے حاضر ہوئیں تو فرمایا اچھا تم چلی جاؤ۔اب یہ آخری ملاقات ہے۔آپ بہت ہی محبت کرنے والے اور رقیق القلب تھے۔آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک سیلاب جاری تھا۔پھر باوجود سخت نقاہت کے لڑکھڑاتے ہوئے اُٹھے اور باہر کار تک اپنی بچی کو چھوڑنے کے لئے آئے۔آنکھیں اشک آلود تھیں اور ٹکٹکی باندھے دیکھے جارہے تھے۔مرزا انور احمد اس انتظار میں تھے کہ عمو صاحب اندر جائیں تو کار چلاؤں۔مگر میں جانتا تھا کہ جب تک کار نہیں چلے گی واپس نہیں پھریں گے۔چنانچہ میں نے کہا کہ عمو صاحب کمزور ہیں اور مشکل سے کھڑے ہیں۔اس لئے اب اور انتظار نہ کرو۔چنانچہ کار چل پڑی اور عمو صاحب روتے ہوئے واپس چلے گئے۔جانے سے پہلے ہی مجھ سے وعدہ لے لیا کہ پھر جلد آؤں گا۔چنانچہ ۲۹ رکو سیالکوٹ کے جلسہ پر جاتے ہوئے لاہور خدمت میں حاضر ہوا۔اس روز تقریباً تمام دن اور اکثر رات اپنے پاس بٹھائے رکھا۔نیند سے گھبراتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب میں سوؤں تو دیکھتے رہنا۔۳۷ حضرت میاں صاحب کی یہ شفقت اور محبت صرف اپنے خاندان کے بچوں تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ دوسرے تعلق رکھنے والے احباب کے بچوں کے ساتھ بھی آپ بہت ہی محبت سے پیش آیا کرتے تھے۔محترمہ امة الشافی صاحبہ بنت حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کا بیان ہے کہ : میں نے حضرت میاں صاحب کی شفقت کو چھٹ پن سے دیکھا ہے اور بہت نزدیک سے دیکھا ہوا ہے قادیان کا نظارہ آج بھی میری نظروں کے سامنے ہے۔