حیات بشیر

by Other Authors

Page 225 of 568

حیات بشیر — Page 225

225 آم اپنا بہترین مزہ پہاڑ پر دیتا ہے چنانچہ ان تاکیدوں کے ساتھ آپ نے وہ آموں کی بیٹی میرے ساتھ روانہ فرمائی۔لیکن ان نصائح کا نتیجہ میرے لئے میری کوتاہی کی وجہ سے الٹا نکلا۔میں تو اسی احتیاط میں رہا کہ آم عین پک جائیں تو کھاؤں اور روزانہ مناسب پکے ہوئے آموں کی تلاش میں انہیں الٹتا پلٹتا رہا اور خلیفہ منیر الدین صاحب جو اس سفر میں میرے ہمراہ تھے اور برادرم مرزا انور احمد صاحب چوری چھپے نیم پکے ہوئے آم ہی کھا جاتے رہے۔جب تک مجھے اس چوری کا علم ہوا۔اکثر آموں کا صفایا ہو چکا تھا۔عمو صاحب نے جب مجھ سے خط لکھ کر پوچھا کہ آم کیسے تھے؟ تو مجبوراً مجھے شکایت کرنی پڑی۔چنانچہ اس کے بعد خلیفہ منیر الدین صاحب ملتے تھے تو پوچھا کرتے تھے کہ کیوں منیر پہاڑ فجری آم کیسے لگتے ہیں؟“ یہ محض مذاق نہیں تھا بلکہ اس میں کچھ نصیحت کی آمیزش بھی تھی۔چنانچہ مجھے یقین ہے کہ اس کے بعد سے انہوں نے کبھی ازراہ مذاق بھی چوری نہ کی ہوگی۔اکثر پر آپ کی عنایات محض بہت بچپن کی عمر تک ہی محدود نہ تھیں بلکہ خاصی بڑی عمر کے اہل خاندان بھی اس پہلو سے آپ کی نظر میں بچے ہی تھے۔اگر چہ آخری عمر میں ذمہ داریوں کے بے حد بوجھ اور تفکرات کے غیر معمولی طور پر بڑھ جانے سے بچوں کا خیال پہلے کی طرح نہیں رکھ سکتے تھے مگر پھر بھی جب کبھی کوئی موسمی پھل یا ہندوستان کے کیلئے آئے ہوئے ہوں تو آپ کے کمرے میں نو عمر زائرین کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھ جایا کرتی تھی لیکن باوجود شدید مصروفیت کے یہ پسند نہ فرماتے تھے کہ کسی کو صاف صاف نکل جانے کے لئے کہیں مبادا اس کے جذبات کو ٹھیس لگے۔چند ہی ماہ کی بات ہے۔قادیان سے کیلے آئے ہوئے تھے ایک بڑی عمر کی بچی نے جا کر خاص طور پر سلام کیا۔اسی خلوص کے ساتھ آپ نے برجستہ فرمایا: علیکم السلام۔مگر کیلئے ابھی کچے ہیں۔“ ۳۶ حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کے بیان میں ابھی گذر چکا ہے۔آپ بچوں ހނ نہ ص صرف پیار ہی کرتے تھے بلکہ ان کا اعزاز بھی ہمیشہ آپ کے مد نظر رہتا تھا اور یہ آنحضرت علیہ