حیات بشیر

by Other Authors

Page 212 of 568

حیات بشیر — Page 212

212 لگے۔” مجھے ہمیشہ یہ احساس رہتا ہے کہ یہ لوگ جو ہماری عزت کرتے ہیں،مصافحہ کرتے ہیں، یہ سب کچھ اسی لئے ہے کہ ہم مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد ہیں۔یہ حضرت اقدس کی نمائندگی کی ذمہ داری ہے اور میں اس بات سے بہت ڈرتا ہوں کہ کہیں اس میں کوتا ہی نہ ہو جائے۔اس لئے تکلیف اُٹھا کر بھی ایسا کرتا ہوں۔پہرہ کا سوال اب ہم ایک ایسے مسئلہ کا ذکر کرتے ہیں جس کا تعلق آپ کی حفاظت کے ساتھ تھا اور وہ یہ کہ شروع شروع میں جب آپ کے قیمتی وجود کی حفاظت کا سوال پیدا ہوا تو کچھ عرصہ تک تو خدام الاحمدیہ کے نوجوان رضا کارانہ طور پر پہرہ دیتے رہے۔لیکن چونکہ یہ انتظام عارضی تھا اس لئے یہ سوال پیدا ہوا کہ آپ کی حفاظت کے لئے مستقل ملازم رکھے جائیں۔چنانچہ صدر انجمن احمدیہ نے دو پہرہ داروں کا انتظام بھی کر دیا۔لیکن جب آپ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ مجھے کسی پہریدار کی ضرورت نہیں اور نہ ہی میں بلا وجہ سلسلہ پر بار بننا پسند کرتا ہوں۔حالانکہ کون نہیں جانتا کہ جماعت احمدیہ میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کا وجود سب سے زیادہ قیمتی تھا مگر آپ کی منکسر المزاجی کا یہ حال تھا۔کہ آپ نے اس انتظام کو قبول نہ فرمایا بالآخر جب صدر انجمن احمدیہ نے اس معاملہ کو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حضور پیش کیا تو حضور نے صدر انجمن کی تائید کی اور آپ کے لئے پہرے کو ضروری قرار دیا۔امام کی آواز کا کان میں پڑنا تھا کہ آپ فوراً راضی ہو گئے اور اس انتظام کو قبول فرما لیا۔اللہ اللہ یا تو یہ حال تھا کہ کسی صورت میں بھی آپ اپنے لئے کسی حفاظتی انتظام کو پسند نہیں فرماتے تھے۔اور یا پھر جونہی امام وقت کے فیصلہ کا علم ہوا۔اس طرح اس فیصلہ کو انشراح صدر سے قبول فرمالیا گویا کہ بھی انکار کیا ہی نہیں تھا۔طبیعت میں انکساری آپ کی طبیعت میں حد درجہ کی انکساری پائی جاتی تھی۔باوجود اس علم وفضل اور زُہد و اتقا کے کم از کم میں نے کبھی آپکو نماز پڑھاتے نہیں دیکھا۔نہ جمعہ اور عیدین کی نمازیں آپ نے کبھی پڑھائیں بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ہمیشہ آپکی زبان پر یہ فقرہ جاری رہتا تھا کہ لال ولاعلی۔کہ یا اللہ ! میں اپنے اعمال کے لحاظ سے کسی اجر کا تو مستحق نہیں ہاں یہ التجا ضرور کرتا