حیات بشیر — Page 92
92 جن احباب کو توفیق ملے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء مبارک کے مطابق یہ عہد کریں کہ ہم اپنی فلاں کمزوری اس رمضان میں چھوڑ دیں گے اور پھر اس کے کبھی قریب نہیں جائیں گے۔اس طرح اس رمضان میں ان کی کم از کم ایک کمزوری دور ہو جائے گی۔آپ نے یہ بھی اعلان فرمایا کہ جو دوست ایسا عہد کریں وہ نظارت تعلیم و تربیت کو بھی اطلاع دیں تا کہ ان کے نام دعا کے لئے رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں حضور کی خدمت میں پیش کئے جا سکیں۔اس تحریک کا خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا اثر ہوا اور ۳۳ء میں ۲۳۶ دوستوں نے اپنی ایک ایک کمزوری چھوڑنے کا عہد کیا۔یہ تحریک حضرت میاں صاحب موصوف نے آخر تک جاری رکھی اور ہزارہا احباب نے اس سے فائدہ اُٹھایا۔۲۰۰ سندات کا رجسٹر آپ سے پہلے مدرسہ احمدیہ کے فارغ التحصیل طلبا کو نظارت تعلیم وتربیت کی طرف سے کوئی سند نہیں دی جاتی تھی مگر ۳۳ ء سے آپ نے فیصلہ فرمایا کہ مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل طلباً اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کی جماعت دہم کے دینیات پاس کرنے والے طلباء کو سندات دی جایا کریں۔چنانچہ اس کے بعد سندات کا اجراء ہوا۔اسی طرح امتحان کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پاس کرنے والوں کو بھی سندات دی جانے لگیں۔۲۰۱ قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ پر نظر ثانی قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ اور تفسیری نوٹوں کی تیاری کا کام حضرت مولوی شیر علی صاحب کے سپرد تھا۔۳۳ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا کہ انگریزی ترجمۃ القرآن پر نظر ثانی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ساتھ مل کر کی جائے۔چنانچہ آپ نے دوسرے فرائض کے علاوہ اس اہم دینی خدمت کو بھی سرانجام دینا شروع کر دیا۔۲۰۲ حضرت مسیح موعود کے الہامات اور رؤیا وکشوف کے مجموعہ کی تیاری اسی سال حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور رؤیا وکشوف کے مجموعہ کی تیاری کے لئے سات ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی قائم فرمائی۔جس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی شریک تھے۔اس کمیٹی کے سپرد یہ کام تھا کہ تمام الہامات اور رؤیا وکشوف کو مرتب کرتے وقت صحیح طور پر اندراجات کے تمام اصول کو زیر نظر رکھا جائے تاکہ اس مجموعہ کی نہایت صحت کے ساتھ تکمیل ہو سکے۔عملی طور پر یہ کام فروری ۳۴ ء سے شروع ہوا جس میں