حیات بشیر

by Other Authors

Page 86 of 568

حیات بشیر — Page 86

86 تھا۔اس سلسلہ مضامین کا مقصد زیادہ تر یہ تھا کہ مسلمان نوجوانوں کے واسطے ایک سادہ اور عام فہم رنگ میں آنحضرت علی کے سوانح جمع کر دیے جائیں اور سیرت کا پہلا حصہ اسی مقصد کے ساتھ شائع کیا گیا۔لیکن اب حالات مختلف ہیں۔اوّل تو اب یہ کام میرے سپرد حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ اور جماعت کی طرف سے کیا گیا ہے اور دوسرے اب یہ تصنیف محض طلباً اور نوجوان طبقہ کے لئے مقصود نہیں بلکہ سب کے لئے اور خصوصاً غیر مذاہب والوں کے واسطے مقصود ہے۔ان وجوہات کی بناء پر ظاہر ہے کہ اب اس کام کی اہمیت اور ذمہ داری بہت زیادہ ہوگئی ہے اور اسی لئے طبعا اب کام کی رفتار پہلے جیسی نہیں رہی کیونکہ اب مجھے اپنا ہر قدم زیادہ غور وفکر کے بعد اُٹھانا پڑتا ہے۔۷۸ " قادیان جانیوالی پہلی ریل گاڑی پر آپکا سفر ۱۹؍ دسمبر ۲۸ء کو چونکہ پہلی دفعہ امرتسر سے قادیان کے لئے ریل روانہ ہوئی تھی اس لئے قادیان سے بہت سے مرد اور عورتیں اور بچے امرتسر پہنچ گئے تا کہ وہ اس پہلی گاڑی میں سفر کر سکیں۔حضرت امیر المؤمنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضور کے اہل بیت بھی تشریف لے گئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی اپنے اہل بیت کے ہمراہ امرتسر گئے اور تمام دوست حضور کی معیت میں پہلی گاڑی پر قادیان پہنچے۔وکلے ۲۹ ء میں آپکا سفر کشمیر اگست ۲۹ ء میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سرینگر (کشمیر) تشریف لے گئے۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بھی ان دنوں تبدیلی آب و ہوا کے لئے کشمیر تشریف رکھتے تھے۔۸۰ دشمنوں کی ایک بے بنیاد افواہ جون ۳۰ء میں اخبار ” ٹریبیون “ میں کسی بد باطن نے حضرت امیر المومنین کے انتقال کی جھوٹی خبر شائع کرا دی جس سے تمام ملک کے احمدیوں میں غم واضطراب کی ایک لہر دوڑ گئی اور انہوں نے دریافت حالات کے لئے مرکز میں تار بھجوانے شروع کر دیے۔اس موقعہ پر مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین نے بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو ہمدردی کا تار ارسال فرمایا اور جب آپ نے انہیں جواب دیا کہ وفات کی خبر بالکل جھوٹ ہے اور حضرت خلیفہ اسیح بخیر وعافیت ہیں تو جناب مولوی محمد علی صاحب نے آپ کو خط لکھا کہ