حیات بشیر — Page 79
79 خطرے کے موقعے بھی پیش آئے۔جن میں بعض اوقات غنیم نے نازک حالات پیدا کر دیے اور ایسا تو کئی دفعہ ہوا کہ احمدی والنٹیئر اپنی کوشش سے ایک شدھ گاؤں کو اسلام میں واپس لائے مگر ہندو دستہ نے پھر یورش کر کے اُسے پھسلا دیا مگر احمدیوں نے دوبارہ حملہ کر کے پھر دوسری دفعہ قلعہ سر کر لیا۔بعض دیہات نے کئی کئی دفعہ پہلو بدلا کیونکہ اس کشمکش کے دوران میں بعض ملکانہ دیہات میں کچھ لالچ بھی پیدا ہو گیا تھا مگر بالآخر ایک ایک کر کے ہر ہندو مورچہ فتح کر لیا گیا اور خدا کے فضل سے شدھی کے مواج دریا نے مکمل پلٹا کھا کر اپنا راستہ بدل لیا۔۱۴۳ احمد یہ ٹورنامنٹ دسمبر ۲۳ ء میں قادیان میں احمدیہ ٹورنامنٹ ہوا۔ٹورنامنٹ کے انتظام کے لئے ایک کمیٹی قائم کی گئی جس کے صدر حضرت صاحبزادہ بشیر احمد صاحب مقرر ہوئے۔آپ نے انتظامات میں لینے کے علاوہ اس ٹورنامنٹ میں ریفری شپ کے فرائض بھی سرانجام دیے۔چنانچہ درد صاحب مرحوم کی طرف سے جو رپورٹ شائع کی گئی اس میں انہوں نے لکھا: ریفری اپنے اپنے وقت پر پہنچتے رہے لیکن سب سے زیادہ محنت اور احتیاط سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ریفری شپ کا کام انجام دیا۔باوجود جملہ دیگر 66 انتظامات میں بھی حصہ لینے کے آپ لگاتار اہم کھیلوں میں ریفری ہوتے رہے۔۱۴۴ دسمبر ۲۳ء میں جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اندرون قصبہ اور بیرون قصبہ دونوں کے ناظم یعنی نگران اعلیٰ مقرر کئے گئے۔۱۳۵ دسمبر ۲۳ ء کے جلسہ سالانہ پر آپ کی عظیم الشان تصنیف ”سیرۃ المہدی“ کا حصہ اوّل شائع ہوا جو ۲۷۶ صفحات پر مشتمل تھا۔۳۶۔۱۹۲۴ء کے واقعات اپریل ۲۴ ء میں پھر احمد یہ ٹورنامنٹ ہوا۔سیکرٹری صاحب احمدیہ ٹورنامنٹ نے اپنی رپورٹ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو اس ٹورنامنٹ کی روح رواں قرار دیا اور بتایا کہ آپ نے کھلاڑیوں کو اپنی طرف سے بعض خاص انعامات بھی عطا فرمائے۔۱۴۷ بہائی فتنہ کیلئے کمیشن کا تقرر اپریل ۲۴ ء میں جب حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو اس بات کا علم ہوا کہ