حیات بشیر — Page 80
80 بعض لوگ اپنے عقائد چھپا کر اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کا دعویٰ کر تے ہوئے در پردہ بہائیت کی تبلیغ کرتے ہیں تو حضور نے اس کی تحقیق کے لئے ایک کمیشن مقرر فرمایا جس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی تھے کمیشن نے الزامات کو درست پایا۔جس کے نتیجہ میں مولوی محفوظ الحق صاحب علمی اور بعض دوسرے افراد کو جماعت سے خارج کر دیا گیا۔۱۳۸ ۲ مئی ۲۴ء کو آپ نے سیرۃ المہدی حصہ دوم کی تدوین کے کام کا آغاز فرمایا۔۱۳۹ اطاعت امام کا نمونہ ۱۵ مئی ۲۳ء کو آپ کی بڑی صاحبزادی امتہ السلام صاحبہ کا نکاح محترم مرزا رشید احمد صاحب کے ساتھ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے پانچ ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔۷۵۰ اس نکاح کا خصوصیت کے ساتھ اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ نکاح میں فرمایا: ނ عزیزم میاں بشیر احمد نے میرے ہی سپرد یہ معاملہ کیا ہے۔انہوں نے پہلے میری رائے پر یہ کام چھوڑا ہوا تھا اور میں نے ہی یہ رشتہ پسند کیا ہے۔اس عہد کے مطابق ان کی طرف سے اب بھی میں ہی بولوں گا اور قبول کروں گا۔“ اشلاء انکسار اور اطاعت امام کا یہ کیسا شاندار نمونہ ہے کہ اپنی لڑکی کی شادی کا معاملہ آپ نے کلیۂ حضور کی مرضی پر چھوڑ دیا اور اس میں ذرہ بھی دخل نہیں دیا۔جہاں حضور نے فرمایا وہاں بلا چون و چرا سرتسلیم خم کر دیا۔امیر الہند کی نیابت جولائی ۲۳ء میں جب حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سفر یورپ پر تشریف لے گئے تو حضور نے حضرت مولوی شیر علی صاحب کو جماعت ہائے ہندوستان کیلئے امیر مقرر فرماتے ہوئے انکے ساتھ دو نائب مقرر فرمائے جن میں سے ایک حضرت مفتی محمد صادق صاحب تھے ۱۵۲ اور دوسرے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کیے اور پھر حضور نے اس امید کا اظہار فرمایا کہ ”خدا تعالى أن دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے جو حضرت مسیح موعود نے اپنی اولاد کے متعلق کی ہیں میاں بشیر احمد صاحب کو توفیق دے گا کہ وہ اس فخر کو جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کی ذریت میں ہونے کا انہیں بخشا ہے جائز ثابت کریں۔۱۵۳