حیات بشیر — Page 55
55 اخلاق کی پاکیزگی ء میں آپ کی عمر تیرہ سال تھی اور یہ کھیل کود کا زمانہ ہوتا ہے۔مگر اس عمر میں بھی آپ کے اخلاق ایسے پاکیزہ تھے کہ میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی کی روایت ہے: ایک زمانہ میں حضرت میاں محمود احمد صاحب، میاں محمد اسحاق صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب تالاب کے کنارے بیڈمنٹن کھیلا کرتے تھے اور گو میں بچہ تھا مگر میری فطرت میں تحقیق کا مادہ تھا۔کھڑے ہو کر گھنٹوں دیکھتا کہ یہ لوگ کھیل میں گالی گلوچ یا جھوٹ یا فحش کلامی بھی کرتے ہیں یا نہیں مگر میں نے ان حضرات کو دیکھا کہ کبھی کوئی جھگڑا نہ کرتے تھے۔حالانکہ کھیل میں اکثر جھگڑا ہو جایا کرتا ہے۔اسی طرح اکثر دفعہ میں میاں بشیر احمد صاحب و میاں شریف احمد صاحب کے ساتھ شکار کیلئے جایا کرتا تھا۔دونوں حضرات کے پاس ایک ایک ہوائی بندوق ہوا کرتی تھی اور پرندوں کا شکار کرتے تھے۔ہر جگہ میرا یہ مقصد ہوتا تھا کہ میں دیکھوں کہ ان لوگوں کے اخلاق کیسے ہیں۔“ اس لمبی تحقیق کے بعد آخر وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مصاحب اور رشتہ دار اور اولاد ہر ایک اس قدر گہرے طور پر حضرت صاحب کے رنگ میں رنگین ہو گئے تھے کہ بے انتہا جستجو کے بعد بھی کوئی آدمی اُن میں کوئی عیب نہ نکال سکتا تھا۔“ ۵۳ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی شادی ۱۹۷ء کے وسط میں سیدہ ام طاہر رضی اللہ عنہا کی شادی صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم کے ساتھ ہوئی۔مرزا مبارک احمد صاحب کی عمر اس وقت صرف آٹھ سال تھی اور سیدہ اتم طاہر کی عمر غالباً دو اڑھائی سال کی ہوگی۔آپ فرماتے تھے: ” مجھے یاد ہے کہ مبارک کی شادی کے ایام میں ہم انہیں اکثر اپنی گود میں اٹھائے پھرتے تھے۔“ ۵۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ۲۵ رمئی ۰۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات سے صرف چند گھنٹے پہلے خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان پر ایک بڑی پر جوش تقریر فرمائی تھی۔اس تقریر میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب بھی موجود تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ