حیات بشیر — Page 547
547 کام سے فارغ ہو کر باہر پھرنے بھی جاتے اپنی مخصوص طرز سے ہم لوگوں سے ہنسی مذاق کی بات بھی کرتے۔مگر اب بالکل ایک پورے مرد ذمہ دار کے انداز ان کے ہو گئے تھے۔اور شادی نے کسی فرض سے اُن کو غافل نہ کیا تھا۔ہے پورا طبیعت میں احساس ذمہ داری بہت زیادہ تھا۔فرائض کی ادائیگی کا بہت خیال رہتا۔یہی یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت بڑے بھائی صاحب یعنی حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ساتھ ساتھ انہوں نے بھی ہر بوجھ کو اٹھانے کے لئے اپنے کمزور کاندھے آگے کر دیئے۔انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ قابل بھائی بڑا بھائی جب سب بار اُٹھانے کو آگے بڑھ آیا خواہ وہ بار ذہنی ہوں رُوحانی ہوں یا جسمانی تو چلو ہم ذرا آرام ہی کر لیں۔نہیں، انہوں نے بھی اپنا فرض سمجھا اور یہی محسوس کیا کہ یہ گاڑی اب ہم سب نے ہی چلانی ہے۔دل میں ایک تپش بھی، تڑپ تھی کہ اب حضرت مسیح موعود کے مشن کی تکمیل اور آپ کے منشاء کو جو منشائے الہی کرنے میں جان لڑا دینا ہم سب کا کام ہے۔چونکہ جائیداد وغیرہ پر بھی نظر ڈالنا دور اندیشی کے لحاظ سے اب ضروری ہو گیا تھا۔حضرت بڑے بھائی صاحب نے اس طرف بھی توجہ دی تو یہ ساتھ مدد گار و مشیر رہے۔بعد میں چونکہ حضرت بڑے بھائی صاحب اتنا وقت دے نہ سکتے تھے پورا کام ہی آپ کے سپرد کر دیا گیا۔حضرت اماں جان کے ہر چھوٹے موٹے کام کی خبر گیری وغیرہ غرض دینی و دنیاوی ہر قسم کے بوجھ اٹھا لینا اپنا فرض جانا اور کبھی آرام کا خیال نہیں کیا۔اطاعت خلافت میں وہ اپنی نظیر آپ ہی رہے۔حضرت بڑے بھائی صاحب نہایت درجہ شفقت فرماتے رہے ہمیشہ مگر یہ ہمیشہ سر جھکائے تا بعدار خادم کی طرح ہی بنے رہے۔با ادب بانصیب، وہی ادب و و اطاعت، عملی و زبانی، ہر طرح سامنے بھی اور پس پشت بھی۔غرض ان میں بہت ہی خوبیاں تھیں اور ایسی شخصیت تھی جس کی یاد میں بھی ایک زندگی ہے اور آج تک ایک خاص قرب محسوس ہوتا ہے۔اس ایک صفت احساس ذمہ داری کی جانت میں اس وقت آپ لوگوں کو خاص توجہ دلانا چاہتی ہوں کہ آپ میں سے بھی ہر ایک یہ جان لے اور ایسا ہی سمجھنے کا عزم کر لے کہ بیعت اور احمدیت کے حلقہ میں آجانے کے بعد اطاعت خلافت کا محض فرضی جواُ اُٹھا کر آپ ہر گز فارغ نہیں ہو سکتے اس جوئے کو اگر آپ نے اُٹھایا ہے تو اٹھائیے اور سمجھ لیجئے کہ بس احکام خلافت سے وابستہ رہتے ہوئے تنظیم کامل کے ساتھ ہر ایک فرد سمجھے کے یہ بوجھ گویا میں نے ہی اُٹھانا ہے۔دوسروں کا دیکھئے، ارد گرد مت تاکئے، کام کرنیوالوں میں جو آپ سے پیش پیش ہیں نقائض مت