حیات بشیر — Page 546
546 جلسه سیرت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے موقعہ پر مجلس خدام الاحمدیه ربوہ کے نام حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مد ظلہ العالی کا پیغام احساس ذمہ داری میں حضرت میاں صاحب کی زندگی اور عمل صاحب کی زندگی اور عمل سے سبق سیکھیں ذیل کا پیغام ”الفضل‘ ۱۱ ستمبر ۱۹۶۴ کے پرچہ میں شائع ہوا ہے مضمون کی جامعیت اور افادیت کے پیش نظر حضرت سیدہ نواب مبارکه بیگم صاحبہ مدظلہ العالی کے تاثرات اس قابل تھے کہ شروع صفحات کی زینت بنتے لیکن ” کی کتابت مکمل ہو چکی تھی اس لیے یہ مضمون اختتام کتاب پر درج کیا جاتا ہے۔مولف بردران عزیز السلام عليكم ہو آج اس پیاری اور مکرم ہستی کو دنیائے فانی سے رخصت ہوئے ایک سال سے اوپر ہوگیا مگر اب تک ان کی یاد دل میں تازہ ہے ہر وقت وہ صورت آنکھوں میں پھرتی ہے بعض اوقات تصور ایسی صورت اختیار کرتا ہے گویا وہ کہیں نہیں گئے قریب ہی میں ابھی ملنا ہو جائے گا اس یاد میں آپ سب دلی محبت اور قدر شناسی کے جزبہ کے ساتھ شریک ہیں۔مگر یہ شرکت جبھی مفید وسکتی ہے اگر آپ ایسی ہستیوں کی زندگی اور عمل سے سبق سیکھیں اور اس کو اپنا لیں۔آپ میں سے اکثر ابھی بچے ہی کہلانے کے مستحق سمجھے جاتے ہوں گے اور اپنے کو خود بھی لڑکپن کی حدود میں سمجھتے ہوں گے۔مگر میں بتاؤں آپ کو کہ جن کی یاد میں یہ جلسہ منعقد کیا گیا ہے وہ آپ سے کم عمر میں یعنی ۱۳ سال کی عمر میں بچپن کی حدود کو پھلانگ کر سنجیدہ بن چکے تھے۔شادی ہو چکی تھی مگر ایسی شادی نہیں کہ محض ہنسی کھیل اور بچگانہ خوشی کا مظاہرہ ہو۔یا اپنی ذمہ داریوں ور تعلیم سے غفلت برتنا شروع کردیں۔میری آنکھوں میں وہ نقشہ ہے گویا آج دیکھ رہی ہوں کہ نئی بیاہی دلہن پلنگ پر بیٹھی ہے اور آپ میز پر برابر کتابوں کا ڈھیر سامنے رکھے پڑھ رہے ہیں۔سر جھکا ہے، استغراق کی کیفیت ہے گویا محض اپنے کام سے تعلق ہے۔