حیات بشیر

by Other Authors

Page 453 of 568

حیات بشیر — Page 453

453 تھا۔آپ اس بات کو بھی ملحوظ رکھیں۔پھر فرمایا کہ میں نے کل قریشی عطاء اللہ صاحب کو پانچ پانچ روپے کے سو نوٹ اور ایک ایک روپیہ والے سو نوٹ کل چھ سو روپیہ دیا ہے وہ روپیہ آپ دفتر میں رکھیں یا میں یا اپنی امانت میں جمع کر لیں۔جب میری وفات کی اطلاع آئے تو ام مظفر احمد کو دے دیں اور پھر آپ نے خاموشی اختیار کرلی۔اس پر میں نے واپسی کے لئے اجازت چاہی تو مصافحہ کر کے فرمانے لگے کہ کل صبح چھ سات بجے لاہور جانے کا پروگرام ہے۔ممکن ہے یہ میرا آخری سفر ہو۔آپ میرے انجام بخیر کے لئے دعا کرتے رہیں۔رہتے حضرت میاں صاحب کی طرف سے قریباً روزانہ ہی ایک خط آیا کرتا تھا اور دفتر کی طرف سے بھی روزانہ ایک خط حضرت میاں صاحب کی خدمت میں جایا کرتا تھا۔ان خطوط میں حضرت میاں صاحب اپنی طبیعت کے بارہ میں اطلاع لکھواتے تھے۔حضرت میاں صاحب کی طرف سے ۶۳۔۸۔۹ کو جو خط موصول ہوا۔اس کا ایک حصہ درج ذیل ہے: آج دہلی کے مشہور حکیم محمد نبی صاحب نے دیکھا اور بعض دوائیاں تجویز کیں۔مگر دن بدن کمزوری زیادہ محسوس کر رہا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اب شاید میرا چل چلاؤ ہے اور میرا مقدر آچکا ہے۔آگے اللہ بہتر جانتا ہے۔“ سے لاہور پہنچنے کے بعد کی حالت کے متعلق محترم ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب لکھتے ہیں: ' آپ کو دیکھنے کے لئے ڈاکٹروں کا ایک بورڈ بلایا گیا۔جس میں فزیشن اور سرجن دونوں شامل تھے۔چنانچہ کرنل ملک۔کرنل عطاء اللہ، ڈاکٹر مسعود احمد سرجن سول ہسپتال، کرنل مسعود الحسن سرجن ملٹری ہسپتال ،ڈاکٹر محمد اختر خاں فزیشن میو ہسپتال ،ڈاکٹر محمد رشید چودھری اور خاکسار اس مشورہ میں شامل تھے۔خون اور ایکس رے وغیرہ ٹسٹ کئے گئے اور پروسٹیٹ کو دوبارہ دیکھا گیا۔اس مشورہ کے بعد فیصلہ ہوا کہ۔چونکہ پروسٹیٹ کوئی زیادہ بڑھا ہوا نہیں اور بہت سی علامات اعصابی یعنی (Anxiety Neurosis) کیوجہ سے ہیں۔اسلئے آپریشن کرنا مناسب نہیں ہوگا۔دوائیوں سے علاج کرنا بہتر ہو گا۔سو مناسب دوائیاں اور ضروری ہدایات تجویز کی