حیات بشیر

by Other Authors

Page 45 of 568

حیات بشیر — Page 45

45 آمین کی غرض و غایت آمین کے موقعہ پر حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے عرض کیا کہ حضور یہ آمین کوئی رسم ہے یا کچھ اور چیز ہے۔اس پر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے مجھ پر لا انتہا فضل اور انعام ہیں۔اُن کی تحدیث مجھ پر فرض ہے۔پس جب میں کوئی کام کرتا ہوں تو میری غرض اور نیت اللہ تعالیٰ کے جلال کا اظہار ہوتی ہے۔ایسا ہی اس آمین کی تقریب پر بھی ہوا ہے۔یہ لڑکے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ہیں اور ہر ایک ان میں سے خدا کی پیشگوئیوں کا زندہ نمونہ ہے اس لئے میں اللہ تعالیٰ کے ان نشانوں کی قدر کرنا فرض سمجھتا ہوں کیونکہ یہ رسول کریم ﷺ کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت اور خود اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت ہیں۔اس وقت جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو پڑھ لیا تو مجھے کہا گیا کہ اس تقریب پر چند دعائیہ شعر جن میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا شکریہ بھی ہو لکھ دوں۔میں اصلاح کی فکر میں رہتا ہوں میں نے اس تقریب کو بہت ہی مبارک جانا کہ اس طرح پر تبلیغ کروں۔پس یہ میری نیت اور غرض تھی۔‘۲۶۴ آپ کی آمین کی تقریب چونکہ 1991ء میں ہوئی تھی۔اس لئے آپ کے ختم قرآن کے ذکر کے ساتھ ہی اس تقریب کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے ورنہ جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے یہ تقریب ختم قرآن کے کئی سال بعد وقوع میں آئی تھی۔بچپن کے بعض اور واقعات اب ہم پھر آپ کے بچپن کے واقعات کی طرف عود کرتے ہیں۔خودداری بچپن میں ہی آپ کی طبیعت ایسی خوددار واقع ہوئی تھی کہ کئی دفعہ آپ نے اس امر کا ذکر فرمایا کہ میں نے بچپن میں بھی کبھی حضرت اماں جان سے اپنی کسی ضرورت کا اظہار نہیں کیا۔حضرت اماں جان اس معاملہ میں میرے نازک جذبات کا احساس فرما کر خود ہی خیال رکھتی تھیں۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آپ کی ناز برداری کرنا حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کی روایت ہے کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب جب چھوٹے تھے تو اُن کو ایک زمانہ میں شکر کھانے کی