حیات بشیر

by Other Authors

Page 46 of 568

حیات بشیر — Page 46

46 بہت عادت ہوگئی تھی ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس پہنچتے اور ہاتھ پھیلا کر کہتے ”ابا چی حضرت صاحب تصنیف میں بھی مصروف ہوتے تو کام چھوڑ کر فوراً اُٹھتے کوٹھڑی میں جاتے شکر نکال کر اُن کو دیتے اور پھر تصنیف میں مصروف ہو جاتے۔تھوڑی دیر میں میاں صاحب موصوف پھر دست سوال دراز کرتے ہوئے پہنچ جاتے اور کہتے اتا چٹی ( چٹی شکر کو کہتے تھے۔کیونکہ بولنا پورا نہ آتا تھا اور مراد یہ تھی کہ سفید رنگ کی شکر لینی ہے) حضرت صاحب پھر اُٹھ کر ان کا سوال پورا کر دیتے۔غرض اس طرح ان دنوں میں روزانہ کئی کئی دفعہ یہ ہیرا پھیری ہوتی رہتی تھی۔مگر حضرت صاحب باوجود تصنیف میں سخت مصروف ہونے کے کچھ نہ فرماتے بلکہ ہر دفعہ اُن کے کام کے لئے اُٹھتے تھے۔یہ ۱۸۹۵ء یا اس کے قریب کا ذکر ہے۔(جبکہ آپ کی عمر قریباً تین سال تھی۔“ ۲۸ بعض اُردو نما پنجابی الفاظ کا استعمال اسی عمر کے قریب کا ایک اور واقعہ بھی قابل ذکر ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ جب میں ابھی بچہ تھا ہماری والدہ صاحبہ یعنی حضرت ام المؤمنین نے مجھ سے مزاح کے رنگ میں بعض پنجابی الفاظ بتا بتا کر اُن کے اردو مترادف پوچھنے شروع کئے۔اس وقت میں یہ سمجھتا تھا کہ شاید حرکت کے لمبا کرنے سے ایک پنجابی لفظ اردو بن جاتا ہے۔اس خود ساختہ اصول کے ماتحت میں جب اُوٹ پٹانگ جواب دیتا تھا تو والدہ صاحبہ بہت ہنستی تھیں اور حضرت صاحب بھی پاس کھڑے ہوئے ہنستے جاتے تھے۔اسی طرح حضرت صاحب نے بھی مجھ سے ایک دو پنجابی الفاظ بتا کر اُن کی اردو پوچھی اور پھر میرے جواب پر بہت ہنسے۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ اس وقت میں نے کتا کی اردو گوتا بتائی تھا اور اس پر حضرت صاحب بہت ہنسے تھے۔“ وہ خانہ تلاشی قتل لیکھرام کے بعد اپریل ۱۸۹۷ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خانہ تلاشی ہوئی تو اس وقت آپ کی عمر قریباً پانچ سال تھی۔حضرت ام المؤمنین اوپر کے مکان میں چارپائی پر بیٹھی تھیں اور آپ پاس کھڑے تھے کہ آپ نے نیچے کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ”اماں اوپائی“