حیات بشیر

by Other Authors

Page 433 of 568

حیات بشیر — Page 433

433 جو حکیمانہ طریق پر وقت کی کسی اہم ضرورت کو پورا کر نیوالے ہوں۔اور دنیا ان مضمونوں کے لئے پیاسی ہو۔اور اس تعلق میں یہ خیال روک نہیں بننا چاہیے کہ کسی مضمون پر کچھ عرصہ پہلے لکھا جا چکا ہے کیونکہ زمانہ کے حالات بدلتے رہتے ہیں کئی مضامین حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں لکھے گئے اور انہوں نے دنیا کی پیاس بجھائی۔مگر آج ان مسائل کے نئے نئے پہلو پیدا ہو چکے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے ان پر سوچنا اور ان کے متعلق قرآن و حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لٹریچر اور دیگر بنیادی لٹریچر سے اصولی روشنی حاصل کر کے زمانہ کے نئے مسائل کو حل کرنا یا پرانے مسائل کی نئی گتھیوں کا سلجھانا جماعت کے خادم دین علماء کا کام ہے۔اقوام عالم کی روحیں دلوں کو منور کرنے والی نئی روشنی کے لئے تڑپ رہی ہیں۔صدیوں کے تعصب کی وجہ سے وہ اسلام کے نام سے تو ابھی تک بیشتر صورت میں متنفر ہیں۔مگر اسلام کی حقیقت کو اپنانے کے لئے بیچین بھی ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ نبوت سے معمور کلام جو آج سے پچپن سال پہلے کہا گیا۔آفتاب عالمتاب کی طرح افق مشرق سے بلند ہو کر مغرب کے مرغزاروں میں بزبان حال گونج رہا ہے کہ آرہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج وو وار نبض پھر چلنے لگی مردوں کی ناگاہ زندہ یہی حال احمدیت کا ہے اور جماعت کو برا بھلا کہتے ہوئے بلکہ ہر قسم کے فتوے لگاتے ہوئے بھی غیر احمدی دنیا جماعت احمدیہ کے خیالات اور نظریات کو مسلسل اپناتی چلی جاتی ہے۔یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قلم کا کرشمہ ہے۔جس کے پیچھے خدا کی عظیم الشان نصرت اور رُوح القدس کی زبر دست تائید کام کر رہی ہے۔پس اے عزیزو اور دوستو! آگے آؤ اور اپنی قلموں کو اسلام کی تائید میں حرکت دو کہ اس سے بڑھ کر تمہارے لئے کوئی برکت نہیں۔اس وقت بہت سے اچھوتے اور نیم اچھوتے مضمون تمہاری قلموں کی جنبش کا انتظار کر رہے ہیں اور ساغر حسن صرف ایک انگلی کے اشارے پر چھلکنے کے لئے تیار ہے اور تمہارے لئے صرف مفت کا اجر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ