حیات بشیر — Page 43
43 اس کا ذکر فرمایا۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں: ” جب پیر صاحب مرحوم جوڑوں کے درد کی وجہ سے معذور ہوگئے تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی منظوری سے حضور کے بچوں کو پڑھانا شروع کیا چنانچہ ہم سب بہن بھائیوں کو پیر صاحب نے ہی قرآن کریم ناظرہ پڑھایا تھا۔“ آپ نے یہ بھی لکھا: قاعده يسرنا القرآن جس نے بعد میں اتنی شہرت حاصل کی وہ ہم بہن بھائیوں کی تعلیم کی غرض سے ہی ایجاد کیا گیا تھا اور خدا کے فضل سے اس قاعدہ کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ لاکھوں احمدیوں اور غیر احمدیوں نے اس سے فائدہ اُٹھایا ہے اور اس وقت تک اس کے بے شمار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔“ ۲۲ آمین کی تقریب اس کے چند سال بعد جب کہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے بھی قرآن پڑھ لیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس خوشی میں ۳۰/نومبر ۱۹۰۱ ء کو جبکہ آپ کی عمر نو سال تھی آمین کی تقریب منعقد فرمائی جس میں حضور نے دوستوں کو ایک پر تکلف دعوت دی اور یتامی و مساکین کو کھانا کھلایا۔اس موقعہ پر آپ نے ایک دُعائیہ نظم بھی لکھی جس کے ابتدائی تین اشعار یہ ہیں: خدایا میرے پیارے خدایا کیسے ہیں ترے مجھ پر عطايا تو نے پھر مجھے دن دکھایا کہ بیٹا دوسرا بھی پڑھ کے آیا احمد جسے تو نے پڑھایا شفا وی آنکھ 3 بنایا اور پھر دعا کرتے ہوئے فرمایا: عیاں کر ان کی پیشانی اقبال نہ آوے ان کے گھر تک رعب دجال