حیات بشیر — Page 410
410 جو کہ آپ کے لئے نئی ہے۔آپ کو معمول سے زیادہ دعائیں اور جدو جہد کرنی ہوگی۔اور فرمایا کہ سب سے پہلی اور بڑی تبلیغ ایک مبلغ کا اپنا نمونہ ہے۔اس کے بعد دعا علم حکمت اور تجربہ وغیرہ کام آتے ہیں۔نیز فرمایا کہ اپنے نفس کا محاسبہ متواتر اور اپنے تبلیغی و تربیتی کام اور اس کے نتائج کا ہمیشہ جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔مبلغ کو ہر سے ایسا سلوک کرنا چاہئے کہ ہر فرد جماعت اللہ تعالیٰ کی ہستی کے بعد اسے شخص ނ اپنا سب سے زیادہ مدد گار معاون اور ہمدرد و و شفیق اور مہربان باپ اور بھائی یقین کرے۔نیز حتی الوسع ان میں سے حاجت مند احباب پر ذاتی احسانات اور حسن سلوک محض اللہ فی اللہ کر کے انہیں اپنا سچا دوست اور ہمدرد بنانا چاہیے۔تا کہ کسی نا گہانی مصیبت یا بیماری کے وقت اپنے عزیزوں کی طرح وہ لوگ اپنا دست و بازو ثابت ہوں اور کام آسکیں۔اور یہ بات پیدا ہونی ایمان کے علاوہ ذاتی تعلقات محبت چاہتی ہے۔اسی طرح فرمایا کہ اپنے پہلے مبلغ کے طریق کار اور اس کی پالیسی اور اس کے جاری کردہ مفید کاموں یا پروگراموں کو حتی الامکان اسی طرح جاری رکھنا چاہیے۔اور بلا وجہ تبدیلیاں نہیں کرنی چاہئیں۔اور اگر تبدیلی کرنی بھی پڑے یا کوئی نیا طریق کار جاری کرنا بھی پڑے تو ایسے طریق پر کیا جائے کہ سابقہ کام یا طریق کار کے نقائص پبلک میں نہ آئیں۔ان کے کاموں اور کوششوں کی تعریف ہو اور ان کے لئے دعائیں جاری رہیں۔اور اس طرح باوجود مصروفیت کے حضرت میاں صاحب کام چھوڑ کر قریباً دس منٹ تک مفید ترین نصائح سے نوازتے رہے۔“ 19 جماعت ت احمدیہ میں چونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آپ کو بہت بڑا مقام حاصل تھا۔حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے بعد آپ ہی معزز و مکرم سمجھے جاتے تھے۔اس لئے بعض اوقات غیر از جماعت دوست عدم معرفت کی بنا پر آپ کے پاس احمدی افسروں کے نام سفارشی چٹھیاں لینے کے لئے آ جاتے تھے۔مگر آپ کا یہ طریق تھا کہ مقدمات کے بارے میں آپ نے کبھی کسی فریق کو چٹھی نہیں دی اور نہ ہی زبانی سفارش کی مگر دو ٹوک جواب بھی نہیں دیتے تھے۔بلکہ نہایت ہی حکمت اور دانائی سے چٹھی لینے والے کو قائل کرتے تھے۔کہ تمہارا چٹھی لینے کا مطالبہ ان ان وجوہات کی بنا پر درست نہیں اور ساتھ بیش قیمت نصائح بھی فرماتے جاتے تھے۔اس لئے اکثر و بیشتر چٹھی طلب کرنے والا خود ہی کہہ اٹھتا تھا کہ حضرت میاں صاحب! ان حالات میں تو