حیات بشیر

by Other Authors

Page 4 of 568

حیات بشیر — Page 4

4 بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ حیات بشیر پیش لفظ تحریر فرموده حضرت چوہدری محمد ظفر الله خان صاحب جج عالمی عدالت ہیگ محض اللہ تعالیٰ کے فضل واحسان اور اس کی ذرہ نوازی نے اس عاجز کے لئے صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب کی مشفقانہ رفاقت نصف صدی سے زیادہ عرصہ کیلئے میسر فرما دی اور اس تمام عرصے میں یہ عاجز متواتر اس پاک اور صافی چشمہ فیض سے متمتع ہوتا رہا اور اس بے نفس اور ہمہ تن متواضع ہستی کی طرف سے پیہم موردِ الطاف و عنایات رہا۔کبھی ایسا موقع پیدا نہ ہوا کہ خاکسار بھی اس محبوب و مشفق رفیق کی حقیر سے حقیر خدمت کی سعادت حاصل کرتا۔یہ محرومی اس عاجز کے لئے تلخ تأسف کا موجب ہے۔لیکن ساتھ ہی اس عالی جناب کے لطف بے پایاں پر شاہد ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں الید العلیا سے نوازا تھا اور خاکسار کا مشاہدہ اور تجربہ سترہ سال کے سن سے لے کر ستر سال کی انتہاء تک یہی رہا کہ وہ ہاتھ ہر حالت میں بلند وبالا ہی رہا۔کبھی فضل الہی نے اسے نیچا نہ ہونے دیا۔ذالک فضل الله يوتيه من يشاء۔یہ تمام کیفیت کچھ خاکسار کے ساتھ ہی مخصوص نہ تھی، ان گنت احباب اس کے مورد وشاہد ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ خویش و درویش، اپنا اور پرایا جو بھی اس چشمے تک آیا بے سیراب ہوئے نہ لوٹا۔اگر کبھی کمی رہی تو ظرف سائل میں نہ فیض ساقی میں۔الہ العالمین جیسے تو نے اپنے اس بندے کو دل عطا فرمایا تھا جو تواضع اور شفقت اور تیرے مسکین اور عاجز بندوں کی دلجوئی، غمگساری اور حاجت روائی میں کسی حد کا روادار نہ تھا۔ویسے ہی اب تو اُسے جیسے اس کی التجا تھی بغیر حساب اپنے الطاف ونعماء کا مورد بنا۔آمین یا ارحم الراحمین۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی پاکیزہ زندگی سن شعور سے لے کر دم واپسیں تک ہمارے لئے ایک نیک نمونہ اور مشعل راہ رہی۔جب تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے میٹریکولیشن کی سند حاصل کرنے کے بعد آپ گورنمنٹ کالج میں تعلیم جاری رکھنے کیلئے تشریف لائے تو خاکسار بھی