حیات بشیر — Page 3
3 بسم الله الرحمن الرحيم ط نحمده ونصلى على رسوله الكريم عرض حال الحمد لله ثم الحمد للہ کہ آج میں اپنے پیارے اور محسن آقا حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کی حیات مبارکہ کے حالات مدون کرنے کے کام سے فارغ ہوگیا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہوں کہ اس نے مجھے اس مبارک کام کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائی۔حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کے تقدس اور بزرگی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ کی زندگی پر بیسیوں کتابیں لکھی جائیں گی اور جو شخص بھی پوری تحقیق اور چھان بین کے ساتھ پہلی تصانیف پر کوئی مفید اضافہ کرے گا وہ بارگاہ الہی سے اجر کا مستحق ہوگا۔لیکن یہ یقینی بات ہے کہ ہمارے زمانہ کے بعد لکھنے والے علمی طور پر تو بے شک تحقیق کرلیں گے۔لیکن وہ عینی شاہد نہیں ہوں گے۔یعنی وہ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ہم نے حضرت میاں صاحب رضی اللہ عنہ کو ایسا کرتے دیکھا یا فرماتے سنا۔ہم پر اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار احسان ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سینکڑوں صحابہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان کے مونہوں سے حضرت اقدس کی پیاری پیاری باتیں سنیں ہم نے ”ذریت طیبہ کو بھی دیکھا یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبشر اولاد کا مبارک زمانہ بھی ہم نے پایا اور سینکڑوں مرتبہ ان کے کلمات طیبات سے فیضیاب ہوئے پھر ایسے زمانہ میں حضرت میاں صاحب کے حالات لکھنے کی توفیق پائی۔جبکہ ان کو دیکھنے والے ہزاروں لاکھوں انسان موجود ہیں۔یہ تمام امور ایسے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔فالحمد للہ علی ذالک خاکسار عبدالقادر (سابق سوداگرمل) ۲۶ اگست ۱۹۶۴ء بروز بدھ