حیات بشیر — Page 399
399 ۴۶۴/۶۵۰ (۷۱) اور انعامی وظیفہ حاصل کیا۔دراصل یہ نتیجہ بہت افسوس ناک تھا کہ میٹرک کے ۱/۲ ۸۳ فیصد سے ایف اے میں %اے پر آ گیا۔آئی جو کوئی مجھ سے ایف اے کے نتیجے کے متعلق سوال کرتا تو میں اپنی شرمندگی کو چھپاتا ہوا یہ کہہ دیتا کہ اچھا نتیجہ ہے۔انعامی وظیفہ بھی مل گیا ہے اور فرسٹ ڈویژن ہے۔بہت سے بزرگ اس پر مجھے شاباش دے دیتے۔ایک دن قادیان میں صبح ۱۰-۹ بجے کے قریب میں بڑے دفتر کے سامنے سے احمدیہ چوک کی طرف جارہا تھا کہ سامنے سے حضرت میاں صاحب آتے ہوئے دکھائی دیئے۔آپ کو دیکھتے ہی مجھے پسینہ آگیا۔دل چاہتا تھا کہ کہیں چھپ جاؤں۔میاں صاحب میرا نتیجہ سن کر کیا کہیں گے؟ قریب آتے ہی خاکسار نے السلام علیکم عرض کرتے ہوئے مصافہ کیا۔حضرت میاں صاحب نے ایف اے کا نتیجہ دریافت فرمایا۔میں نے وہی جواب دے دیا جو سب کو دنیا تھا۔مگر یہاں دال نہ گلی۔حضرت میاں صاحب مسکرائے مگر ایسی مسکراہٹ جس میں ناراضگی بھی مترشح ہوتی تھی۔بے تکلفانہ مجھے گردن سے پکڑ لیا۔اور فرمایا چلو او پر دفتر میں۔دفتر میں جا کر دریافت کیا کہ تم اپنے نتیجہ پر خوش ہو؟ تم تو آسمان سے زمین پر آ گرے ہو۔مومن کا قدم تو ترقی کی طرف اُٹھا کرتا ہے۔پہلے کی نسبت خواہ بڑا ہی ترقی ہوتی مگر ہونی ترقی چاہیے تھی۔خاکسار بُت بنا سامنے کھڑا تھا۔میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔حضرت میاں صاحب نہایت ہی پُر شفقت و محبت آمیز لہجے میں تنبیہہ فرما رہے تھے اور آپ کی وہ محبت آج بھی میرے تصور میں دائم و قائم ہے۔“ ۵ محترم ملک حبیب الرحمن صاحب ڈپٹی انسپکٹر آف سکولز سرگودھا فرماتے ہیں: ”میرے ایک بچے نے ایف ایس سی کا امتحان تھرڈ ڈویژن میں پاس کیا تو میں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کے لئے عرض کی اور بچے کی بے توجہی کا تھوڑا سا گلہ بھی کیا۔آپ نے اپنی شدید بیماری کے باوجود مجھے فرمایا کہ بچے کو میرے پاس بھیج دیں اور جب وہ بچہ وہاں گیا تو اسے دیر تک سمجھاتے رہے چنانچہ منجملہ اور باتوں کے یہ بھی فرمایا اور بڑے دُکھ سے فرمایا کہ دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش تھی کہ ہماری جماعت کے نوجوان ہر نیک امر میں دوسروں سے بڑھ جائیں۔پھر آپ کیوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس خواہش کو پورا کرنے والے نہیں بنتے۔جب