حیات بشیر — Page 384
384 جو پیغام پر مشتمل ہے تحریر فرمایا: آپ کا خط ملا اس عمر اور صحت کی حالت میں آپ کی اس قدر محنت اور دینی امور میں شوق بہت قابل قدر ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور بیش از بیش خدمت دین کی توفیق دے۔انگلستان کے احمدیوں کے لیے میرا پیغام یہی ہے کہ وہ ایک ایسے ملک میں بیٹھے ہیں جو توحید کا مدعی ہونے کے باوجود شرک کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔اس کے علاوہ وہاں مادیت کا بھی بڑا زور ہے اس لئے انگلستان کے احمدیوں کو چاہیے کہ اپنے اندر سچی توحید کا تصور پیدا کریں۔اور خدا کو ہر رنگ میں واحد و یکتا جانیں۔جس کا کوئی شریک نہیں۔نہ اس کی ذات میں نہ اس کی صفات میں اور مادیت کے مقابلہ کے لئے اپنے اندر روحانیت پیدا کریں۔اور خدا کے ساتھ دعاؤں کے ذریعہ ذاتی تعلق کو ترقی دیں۔اس کے علاوہ آپس میں کامل اتحاد اور محبت اور قربانی کے ساتھ رہیں۔مومنوں کے متعلق قرآن مجید میں بنیان مرصوص کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اور بنیان مرصوص وہ ہوتی ہے جس میں کسی جہت سے کوئی رخنہ نہ ہو۔خدا کرے کہ میری یہ مختصر نصیحت آپ لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں جگہ پائے۔اور آپ لوگ ان سفید پرندوں کے پکڑنے میں کامیاب ہو جائیں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رویا میں دکھائے گئے تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ربوہ ۱۴-۱۲-۲۰ ۷ مکرم ومحترم سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا نے اپنے خط مؤرخہ ۶۱-۶-۱۸ میں درخواست کی کہ جماعت احمدیہ انڈونیشیا کا سالانہ جلسہ و مشاورت حسب پروگرام مورخہ ۲۱ جولائی تا ۲۳ جولائی ۶۱ء وسطی جاوا کے ایک شہر پورود کر تو نامی میں منعقد ہوگی۔اس موقعہ کے لئے اپنے پیغام سے نوازا جائے۔جس کے جواب میں حضرت میاں صاحب نے مندرجہ ذیل خط جو پیغام پر مشتمل ہے تحریر فرمایا: وو عزیزم مکرم سید شاہ محمد صاحب السلام علیکم ورحمة الله وبركاته پ کا خط محرره ۶۱-۶-۱۸ موصول ہوا۔آپ کی بیماری سے فکر ہوا۔اللہ تعالیٰ وو