حیات بشیر — Page 383
383 کہ آپ لوگوں کے اندر ترقی کا وہی جو ہر موجود ہے جو یورپ و امریکہ کے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔بلکہ جہاں یورپ و امریکہ کی قومیں رُوحانیت سے خالی ہیں اور محض دنیا کے علوم کو لے کو اٹھی ہیں وہاں آپ لوگ خدا کے فضل سے اسلام اور احمدیت کے ذریعہ دین و دنیا کے زیور سے آراستہ ہوں گے اور حق و صداقت کے رستہ پر گامزن ہو کر ایک طرف دنیا کے لیڈر اور دوسری طرف آسمان کے ستارے بن جائیں گے۔آپ کا پیوند دنیا سے بھی ملے گا اور خدائے عزوجل کے ساتھ بھی پیوست ہوگا اور ان دونوں نقطوں کے ملنے کے بعد دنیا کی کوئی طاقت آپ کی ترقی اور غلبہ کے رستہ میں روک نہیں بن سکتی۔یاد رکھو کہ مغربی اقوام اپنی ترقی کا دور پورا کر چکی ہیں۔اب آپ کی اور ہماری ترقی کا زمانہ آ رہا ہے۔پس اٹھو اور اسلام اور احمدیت کے جھنڈے کے نیچے ہو کر اس کشتی کے چپوؤں کو سنبھالو جو آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کیساتھ ہو اور آپ کو دین و دنیا میں ایسی ترقی عطا جب کرے کہ اس کے سامنے یورپ و امریکہ کی موجودہ ترقی ماند پڑ جائے۔کیونکہ سورج چڑھتا ہے تو ستاروں کی روشنی خود بخود ماند پڑنی شروع ہو جاتی ہے بلکہ ہم تو یقین رکھتے ہیں کہ انشاء اللہ جلد یورپ و امریکہ کی عیسائی اقوام بھی بالآخر اسلام قبول کر کے ہمارے ساتھ مل جائیں گی اور صداقت کا آفتاب مغرب سے طلوع کرے گا جس طرح کہ وہ اب مشرق سے طلوع کر رہا ہے۔خدا آپ کے ساتھ ہو۔والسلام خاکسار دستخط مرزا بشیر احمد ۳-۱۲-۶۰ ربوه محترم مولوی محمد حسین صاحب آف جھنگ (والد پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب لندن) نے لندن سے اپنے خط مورخہ ۶۰-۱۱-۲۹ میں درخواست کی کہ ایک چھوٹا سا خطاب مردوں اور عورتوں کو لکھ دیں تو ان کو پہنچا دیا جائے جس کے ذریعہ یگانگت محبت اور اخلاص کی طرف توجہ دلائی جائے۔آپس کے جھگڑے مٹا دیے جائیں۔یک جان ہو کر مادیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ނ انصار۔خدام۔اور اطفال - تمام بہنیں اور لڑکیاں کھڑی ہو جائیں اور اپنے اچھے نمونے اور علم۔دشمن پر فتح حاصل کرنے والے ہوں۔اس کے جواب میں حضرت میاں صاحب نے مندرجہ ذیل خط