حیات بشیر

by Other Authors

Page 376 of 568

حیات بشیر — Page 376

376 مبارکه پارٹیشن کے وقت مسعود احمد خاں میرے لڑکے مالیر کوٹلہ میں تھے۔اور حالات کی وجہ سے وہیں رکے رہے وہاں بھی مہاجرین کی خدمت اور لوگوں کو بچانے کا سلسلہ جاری تھا۔مسعود احمد کے بچے چھوٹے۔یہاں حالات سب کے خراب۔میں نے منشی کو قادیان لکھا تھا کہ بچوں کے اور طیبہ بیگم کے گرم کپڑوں کا بکس ضرور نکال کر بھجوا دینا۔اس نے شکایت کی کہ میں نے بکس بھجوانا چاہا تو اور لوگوں نے سامان اپنا رکھ دیا۔مجھے بکس نہیں چڑھانے دیا میں نے حضرت منجھلے بھائی حضرت میاں بشیر احمد صاحب کو لکھا چونکہ آپ کو احساس ذمہ داری بہت رہتا تھا۔آپ نے اس شکایت کو اپنی جانب منسوب سمجھا۔حالانکہ یہ بات ہر گز نہ تھی۔اس خط کے جواب میں یہ خط آیا تھا۔جو درج ذیل ہے۔۶۱ : " عزیزہ مکرمہ ہمشیرہ صاحبہ السلام علیکم ورحمة الله وبركاته آپکا خط ملا یہ بالکل غلط ہے کہ میں نے طیبہ بیگم کا سامان روکا ہے مجھ سے کسی نے اسکے متعلق نہیں پوچھا۔ورنہ میں اس کی ضرور اجازت دیتا کیونکہ وہ اس کی مستحق ہیں۔آپ کا خط ملتے ہی میں نے اسماعیل کو بلا کر سامان کے لئے ٹکٹ دے دیا تھا۔مگر باوجود اسکے میاں ناصر نے بتایا ہے کہ اس نے سستی کی اور جب آج ٹرک چلنے کو تیار ہوئے تو پوچھنے کیلئے آیا کہ سامان کہاں رکھوں حالانکہ اس وقت تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔اور لوگ صبح صبح ہی اپنا سامان لگا چکے تھے۔اب اسے انشاء اللہ آئندہ کانوائے میں موقعہ دوں گا۔مگر دن بدن سامان کی مشکل بڑھ رہی ہے کیونکہ جان کو سامان پر مقدم کرنا پڑتا ہے۔شروع شروع میں جب کہ خطرہ کم تھا لوگوں نے کافی فائدہ اٹھا لیا۔قادیان کے حالات بدستور ہیں۔مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ مکڑی اپنا جالا بنتی ہوئی مرکزی نقطہ کے قریب تر آرہی ہے۔مگر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے رویا میں دیکھا۔انشاء اللہ یہی اس کی ہلاکت کا وقت ہے۔گو نہیں کہہ سکتے کہ جماعت کو اس امتحان میں کیا کیا تکلیفیں اٹھانی پڑیں۔فی الحال تو قیامت کا نظارہ ہے اور سارے ضلع کے طول و عرض میں اس وقت قادیان ہی اکیلا مسلمانوں کا گاؤں باقی رہ گیا ہے قادیان کے سوا تمام ضلع میں اس وقت اذان کی آواز غالباً کسی اور جگہ نہیں ہیں بعد میں جلد ہی ایسا وقت آگیا تھا جبکہ سارے مشرقی پنجاب میں صرف قادیان میں ہی اذان ہوتی تھی۔